کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 29
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وعلی المستکرِہ حد الرجم إن کان ثیبا والجلد والنفي إن کان بکرا (الأم :ج۳/ص۲۶۴) ’’جبر کرنیوالا اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگساری ، اگر کنوارا ہے تو کوڑے اورجلاوطنی۔‘‘ 2. جہاں زنا بالجبر کے ساتھ اغوا، برہنہ کرنایا اجتماعی زیادتی وغیرہ بھی شامل ہوجائے تو شادی شدہ کے لئے سنگساری سے بڑی مزید کسی سزا کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔(جو لوگ رجم کے منکر ہیں ، ان کے نزدیک یہ صورت بنتی نہیں ، ا س لئے وہ فوراً حرابہ کی طرف لپکتے ہیں ) 3. البتہ ایسی صورت میں جب کنوارا سنگین زنا بالجبر کا ارتکاب کرے تو اس پر بیک وقت دو سزائیں بھی عائد ہوسکتی ہیں :کنوارے زانی کی حد اور ا س کے بعد فساد فی الارض کی تعزیر دو سزاؤں کی جمع کرنے کی دلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ بھی ہے جو شعبی سے مروی ہے: ’’ أن علیًا قال لشراحۃ لعلک استکرہت لعل زوجک أتاک لعلک لعلک قالت: لا۔قال: فلما وضعت ما في بطنہا جَلَدَہا ثم رجمَہا فقیل لہ جلدتہا ثم رجمتہا؟ (وفي روایۃ: جمعت علیہ حدین) قال جلدتہا بکتاب ﷲ ورجمتہا بسنۃ رسول ﷲ (مسند احمد: ۱۱۲۹، ۸۹۷، صحیح بخاری: ۶۸۱۲ ) ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ سے پوچھا:شاید کہ تجھ سے زنا بالجبر ہوا ہو، شاید کہ تیرا شوہر تیرے پاس آیا ہو، شاید یہ اور یہ لیکن وہ عورت بولی: نہیں ۔سو جب اس عورت نے بچہ جن دیا جو اس کے پیٹ میں تھا تو آپ نے (جمعرات کو) اسے ۱۰۰ کوڑے مارے اور (جمعہ کو ) رجم کردیا۔ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پہلے کوڑے مارے پھر رجم کردیا؟ (اور ایک روایت میں ہے کہ دو حدیں جمع کردیں ؟) تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے کتاب اللہ کی وجہ سے ۱۰۰ کوڑے مارے اور سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے رجم کیا۔ ‘‘ ( إرواء الغلیل: ۲۳۴۰ ’صحیح ‘) جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ ’’زنا بالجبر پر شادی شدہ کے لئے تو سنگساری سے مزید سنگین کیا سزا ہوسکتی ہے؟ البتہ کنوارے کیلئے ۱۰۰ کوڑے ہی ہے۔اور حدود قوانین کی دفعہ ۶(۳) میں عدالت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ جبر کی صورت میں کوئی اور سزا ’بھی‘ دے سکتی ہے۔‘‘ (کتابچہ حدود قوانین: ص۲۵) 4. زناکی سزا تو چار گواہوں یا اعتراف کے بغیر دی نہیں جاسکتی، اب جن حالات میں