کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 23
اہلیت کے تعین کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔‘‘ (۱۹۹۲ء پاکستان کریمنل لاء جرنل صفحہ۱۵۲۰) واضح ہے کہ حدود قوانین کے تحت تعزیری سزاؤں کیلئے ہی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے۔ 3. سپریم کورٹ، آزادکشمیر نے قصاص اور زنا کے مقدمات میں عورت کی گواہی کے حوالے سے مندرجہ ذیل اُصول بیان کیا : ’’قصاص اور نفاذِ حدود کے مقدمات میں بھی چار مرد گواہوں کی شہادت کے بعد مزید شہادت کے لئے عورتوں کی گواہی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔‘‘ (پی ایل ڈی۱۹۷۹ء سپریم کورٹ،آزاد جموں کشمیر: صفحہ ۵۶) اس فیصلے سے یہ واضح ہوتاہے کہ اگر خواتین یہ محسوس کریں کہ حد زنا کے کسی مقدمہ میں چار مرد گواہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یا درست گواہی نہیں دے رہے ہیں تو واقعہ کی چشم دید گواہ عورتیں بھی عدالت کے روبرو گواہی دے سکتی ہیں ۔ اور اصل حقائق کو عدالت کے علم میں لانے کا حق رکھتی ہیں ۔ 4. ۱۹۷۹ء میں زنا بالجبر کے ایک مقدمے کافیصلہ تحریر کرتے ہوئے کراچی ہائی کورٹ نے صرف ایک مظلومہ عورت کے بیان کو کافی گردانا اور قرار دیا کہ ’’زنا بالجبر کے کیس میں مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے بیان پر ملزم کو سزا دی جاسکتی ہے۔‘‘ (پی ایل ڈی ۱۹۷۹ء کراچی، صفحہ ۱۴۷) چنانچہ جن لوگوں کو حدود اللہ ویسے ہی ظالمانہ نظر آتی ہیں ، وہ محض اعترا ض کرنے کے لئے چار مرد گواہ کی شق کو سامنے لے آتے ہیں ، وگرنہ یہ چار مرد گواہ زنا بالجبر کی سزا کے لئے سرے سے ضروری ہی نہیں بلکہ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حدود قوانین میں تعزیرات پر عورت کو گواہی کے حق سے محروم نہیں کیاگیاہے بلکہ ان قوانین کے توسط سے ایک عورت کی گواہی پر مجرم کو سابقہ قانون کی نسبت دوگنا زیادہ سزا کے مواقع میسر آگئے ہیں ۔ ٭ جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ زنا بالجبر میں ایک سے زیادہ گواہ ملتے نہیں تو یہ بھی محض خام خیالی ہے۔کیونکہ بعض اوقات زنا کے آخری مراحل میں بعض افراد کو علم ہوتا ہے اور فعل زنا واقع ہوچکا ہوتا ہے، ایسی صورت میں وہ لوگ جبری زنا کی گواہی تو دے سکتے ہیں لیکن اس کو روکنے پر قادر نہیں ہوتے کیونکہ وہ واقعہ ہوچکا۔یہ صورت اکثر تب پیش آتی ہے جب