کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 21
گے ، اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگرچارمیں سے بعض عورتیں ہوں تو یہ گواہی کافی نہیں ہوگی۔ حنفی فقیہ قاضی ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ عورتوں کی گواہی کا حدود میں کوئی کام نہیں ۔‘‘ ان شرعی نصوص ، اجماع اور علما کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شریعت ِاسلامیہ کا واضح حکم ہے۔ اس کی حکمتوں کی جستجو تو کی جاسکتی ہے لیکن اس سے انکار کرنا کسی مسلمان کے لئے روا نہیں ۔ جو لوگ اسے عورتوں کے خلاف امتیازی قانون سمجھتے ہیں ، اُنہیں اس نصابِ شہادت کو چارسے کم مسلمان مردوں کے لئے بھی امتیازی سمجھنا چاہئے کیونکہ شریعت کی نظر میں وقوعہ تو دو گواہوں سے ثابت ہوجاتا ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ پر زنا کی تہمت کے ایک واقعہ میں تین گواہوں پر حد قذف جاری کی تھی۔٭اس لئے یہاں اصل مسئلہ صنفی امتیاز کا نہیں بلکہ اللہ کے طے کردہ اور قرآن میں ذکرکردہ نصابِ شہادت کا ہے۔ البتہ بعض ایسے حالات جن میں وقوعہ کے وقت صرف عورتیں ہی موجود ہوں تو بعض مسلم علما مثلاً علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے بامر مجبوری آٹھ عورتوں کی گواہی کو حد زنا کے لئے کافی نصاب قرار دیا ہے۔ان کے موقف اور دلائل کے لئے درج ذیل مراجع کی طرف رجوع مفید ہوگا۔ (المُحلّٰی:۹/۳۹۷ تا ۴۰۳، ۸/ ۴۷۶، ۴۸۸، المُغنی: ۹/۱۴۸، طرق الحکمیۃ: ۱۷۹) ان تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کی گواہی کے سلسلے میں بھی حکومت کی مجوزہ ترمیم قرآن وسنت سے متصادم اور حدود اللہ میں تحریف کی ایک کوشش ہے جسے تعجب ہے کہ حدود قوانین میں شریعت کے نام پر ہی محض آزاد خیال عورتوں کی تائیدحاصل کرنے کے لئے داخل کیا جارہا ہے۔ لیکن اس تکلف کا کوئی فائدہ نہیں ، کیونکہ ایسی خواتین تو ویسے ہی حدود اللہ کو وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیتی ہیں ۔ ایسی این جی اوز میں کام کرنے والے ایک فرد امان اللہ بلوچ کی زبانی اندرونی شہادت سنئے: ’’ان خواتین تنظیموں اورٹی وی چینلوں سے یہ سوال پوچھا جائے کہ اگر یہ ترمیم ہوبھی جائے اور چار خواتین کی گواہی پر حد لاگو ہو تو کیا وہ حدود آرڈیننس کو تسلیم کرلیں گے۔ ہرگز نہیں ، تمام ٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ پر زنا کا الزام لگایا گیااور تین شخصوں نے گواہی دی: ابوبکرہ، نافع اور شبل بن معبد مگر چوتھے شخص زیاد بن ابیہ نے وقوعہ کی عملی تفصیلات کی گواہی نہ دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں پر حد قذف جاری کی۔(بخاری تعلیقًا قبل حدیث ۲۶۴۸،ابن ابی شیبہ: ۲۸۸۲۴، إرواء الغلیل:۲۶۷۹)