کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 20
مضت السنۃ من رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم والخلیفتین من بعدہ : أن لا تجوز شہادۃ النساء في الحدود (مصنف ابن ابی شیبہ:رقم:۲۸۷۱۴، ولایۃ المرأۃ حواشی برصفحہ :۲۶۳) ’’دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دونوں خلفا کے دورمیں یہ سنت چلی آتی ہے کہ حدود میں عورتوں کی گواہی درست نہیں ۔‘‘ ٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لا تجوز شہادۃ النساء في الطلاق والنکاح والحدود والدماء (مصنف عبد الرزاق: ۱۵۴۰۵) ’’طلاق ونکاح، حدود اور قتل وغیرہ میں عورتوں کی گواہی ازروئے شرع جائز نہیں ۔‘‘ ٭ شعبی رحمۃ اللہ علیہ اور اعمش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ لا تجوز شہادۃ النساء في الحدود ’’حدود کے سلسلے میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں ۔‘‘(مصنف عبد الرزاق: ۷۵،۱۳۳۷۴) ٭ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک واقعہ زنا میں ۶ عورتوں اورایک مرد نے گواہی دی توفرمایا: لا تجوز شہادۃ النساء في حد (مصنف عبد الرزاق: ۱۳۳۷۳) ’’حدود میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔‘‘ مصنف عبد الرزاق میں ان واقعات کے ساتھ مزید کئی واقعات اور فرامین بھی موجود ہیں ، تفصیل کے لئے اس کا مطالعہ مفید ہوگا ، پھر دورِ نبوی یا خلافت ِراشدہ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ خواتین کو گواہی کے لئے طلب کیا گیا ہو۔ ٭ مسلم علما وفقہا کا موقف بھی ملاحظہ فرمائیں : (المغنی: ۱۴/۱۲۵) أجمع المسلمون علی أنہ لا تقبل في الزنا أقل من أربعۃ شہود ’’مسلم علما کا اس امر پر اجماع ہے کہ زنا میں چار سے کم مردوں کی گواہی قابل قبول نہیں ۔ ‘‘ ٭ حکومت ِکویت کے زیر نگرانی تیارکردہ مشہور فقہی انسائیکلوپیڈیا میں ہے کہ ولا تقبل شہادۃ النساء في الزنا بحال لأن لفظ الأربعۃ اسم لعدد المذکورین ویقتضی أن یکتفي بہ بأربعۃ ولا خلاف في أن الأربعۃ إذا کان بعضہم نساء لا یکتفی بہم … وقال ابن عابدین: لامدخل لشہادۃ النساء في الحدود (الموسوعۃ الفقہیۃ:۲۴/۳۷) ’’حد زنا میں عورتوں کی گواہی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کیونکہ أربعۃ سے چار مردوں کا ہی تعین ہوتا ہے (یہ مذکر کے لئے اسم عدد ہے) جس کا تقاضا یہ ہے کہ چار مرد ہی کفایت کریں