کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 212
کے منکرین حدیث باہمد گر تشابہت قلوبھم کے رشتہ میں منسلک ہیں ۔
٭ جس طرح یہ لوگ وحی اور کتاب اللہ کا نام لے کر عقل کو بالاتر حیثیت دیتے ہوئے، فکر ِاغیار کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوکر قرآن کا تیا پانچہ کر ڈالتے ہیں ، اسی طرح معتزلہ کے ’قرآنی دانشور‘ بھی غیروں کی فکری اسیری میں مبتلا ہوکر غلبۂ عقل کے نعرہ کے ساتھ قرآن کو نشانہ بنایا کرتے تھے، جیسا کہ ’عقل کا غلبہ‘ کے زیرعنوان خود طلوع اسلام یہ کہتا ہے :
’’وہ عقل کے تسلط کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ عقل خود حسن و قبح کی معرفت حاصل کرسکتی ہے، خواہ شریعت نے کسی بات کے حسن و قبح کو بیان کیا یا بیان نہ کیا ہو۔‘‘[1]
٭ جس طرح یہ لوگ انکارِ حجیت ِحدیث کے باوجود خود کو منکرین حدیث کہنا یا کہلوانا پسند نہیں کرتے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ، اُسی طرح وہ لوگ بھی اعتقاداً مسلمانوں سے الگ راہ اختیا رکرنے کے باوجود بھی خود کو معتزلہ کہنا یا کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے :
’’یاد رہے کہ یہ لوگ خود اپنے آپ کو خوارج یا معتزلہ نہیں کہتے تھے، اپنے آپ کو خالص مسلمان سمجھتے تھے۔‘‘[2]
٭ جس طرح آج کے منکرین حدیث صرف قرآن ہی کی سندیت کے قائل ہیں ، اسی طرح وہ لوگ بھی تنہا قرآن ہی کی حجیت کے قائل تھے۔
’’وہ ہر دینی معاملے میں قرآن مجید کو سند قرار دیتے تھے۔‘‘[3]
٭ جس طرح آج کے منکرین حدیث، مغربی معاشرت کے اجزا و عناصر کو اور اشتراکیت کے نظامِ معیشت کو قرآن میں زبردستی گھسیڑنے پر جُتے ہوئے ہیں ، اسی طرح کل کے معتزلہ بھی یونانی فلسفہ کا پھانہ اسلامی عقائد میں ٹھونکنے پر تُلے ہوئے ہیں :
’’یونانی فلسفہ کو اپناکر اُنہوں نے اسلامی عقائد میں اسے جس خوبی سے سمویا، اور علم کلام کے نام سے ایک مستقل علم کی بنیاد رکھی، وہ اس کی زندہ شہادت ہے۔‘‘[4]
٭ ان وجوہِ مشابہت کی بنا پر آج کے منکرین ِحدیث معتزلہ کی انتہائی تعریف و تحسین کرتے ہیں اور ان کے زوال پر یوں نوحہ کناں ہیں :