کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 211
سامنے قاضی شرف الدین بن عین الدولہ پرستارِ ملوکیت کا کردار ادا کرتے ہیں یا پرستارِ حق کا ؟ ’’اسی طرح کا ایک واقعہ قاضی شرف الدین بن عین الدولہ کا ہے جو مصر میں قاضی تھے۔ ان کی عدالت میں ملک کامل، سلطان مصر کسی مقدمہ میں شہادت میں طلب ہوا۔ وہ چونکہ روزانہ ایک مغنیہ کا گانا سنا کر تا تھا، اس وجہ سے قاضی موصوف نے اس کی شہادت لینے سے انکار کردیا۔ اس پر اس نے قاضی کی شان میں سخت کلمہ استعمال کیا، قاضی نے کہا کہ یہ عدالت کی توہین ہے اور اسی وقت اپنی برطرفی کا اعلان کرکے مسند سے اُٹھ کر چلے آئے۔ سلطان نے مجبوراً جاکر معافی چاہی اور ان کو راضی کیا، کیونکہ اس کو اپنی بدنامی اور نامقبولیت کا خطرہ ہوا۔‘‘[1] طلوعِ اسلام کے لٹریچر میں ایسے بیسیوں واقعات مذکور ہیں ، خوفِ طوالت کی بنا پر ان چار اقتباسات پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ ان کی روشنی میں خود دیکھ لیجئے کہ ’مفکر ِقرآن‘ کے اس بیان میں کس قدر صداقت پائی جاتی ہے کہ ’’دینی پیشواؤں اور حکمرانوں ‘ کے مابین ایک ملی بھگت اور ’شریفانہ معاہدہ‘ کم و بیش ہر دور میں قائم رہا ہے۔ مسلمان حکمران، ان مذہبی پیشواؤں کے لئے مالی وظائف کا انتظام کرتے اور اس کے بدلے میں مذہبی پیشوائیت ان حکمرانوں کو ’امام المسلمین‘ اور ’ظل اللہ‘ کے القاب سے یاد کرتی۔‘‘ (ب) لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علماے حق اور ائمہ ہدایت نے نہ صرف یہ کہ اربابِ اقتدار سے ایسا کوئی ’شریفانہ معاہدہ‘ اور ’ملی بھگت‘ نہیں کی، بلکہ ان کے مالی وظائف سے بے نیاز ہوکر، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمۂ حق بلند کرتے رہے۔ اور ان کے زیرعتاب اور زیر زنجیر و سلاسل رہ کر خدمت ِدین بجا لاتے رہے، کجا یہ کہ وہ انہیں ظل اللہ وغیرہ خطابات سے نوازتے۔ یہ ’مفکر ِقرآن‘ کے جھوٹ کا بھی ایک رخ ہے۔ اب اس تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے جو ’مفکر قرآن‘ کے کذب و زُور کا بھی رخِ ثانی ہے۔ معتزلہ اور منکرین حدیث ہماری تاریخ میں معتزلہ نامی ایک ایسا گروہ گزرا ہے جس کے قارورے کے ساتھ موجودہ منکرین حدیث کا قارورہ ملتا ہے۔ نظریہ و فکر کے اعتبار سے، ماضی کے معتزلہ اور حال