کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 210
ارتداد کی سزا میں قتل ہونے لگے، اکثر علماء نے مجبوراً قرآن کو مخلوق کہہ کر اپنی جانیں بچائیں ۔ لیکن بہت سے اپنے عقیدے پر قائم رہ کر سخت ترین اذیتیں جھیلتے اور موت کے گھاٹ اُترتے رہے۔ انہی میں امام احمد بن حنبل جیسی شخصیت بھی تھی۔ امام صاحب کو جس طرح قیدوبند کے عذاب میں مبتلا رکھا گیا، اس کے تصور سے روح کانپ اُٹھتی ہے، اُنہیں دربار میں بلا کر کوڑوں سے پٹوایا جاتا تھا اور جب وہ بے ہوش ہوجاتے تو پھر قید خانے میں بھجوا دیا جاتاتھا۔ یہ سلسلہ ایک دن، دو دن نہیں بلکہ پورے اڑھائی سال تک جاری رہا۔ معتصم ان سب لوگوں کو قتل کردیا کرتا تھا جو قرآن کو غیر مخلوق کہتے تھے لیکن امام صاحب کے قتل کی جرأت اس نے نہیں کی کیونکہ ان کے ساتھ عوام کی عقیدت بہت گہری تھی۔‘‘[1] تیسرا اقتباس:تیسرے اقتباس میں قاضی عزالدین بن عبدالسلام کا ایک ایسا واقعہ مذکور ہے جس میں انہوں نے ایک ایسے کام کا عزم کیا جو اَعیانِ سلطنت کے لئے باعث ِغضب اور موجب ِانتقام تھا اور قاضی صاحب تن تنہا اور نہتے ہاتھوں ، ننگی تلواروں کے مقابلہ کیلئے نکل آئے : ’’نائب السلطنت نے غضب ناک ہوکر کہا کہ ہم روے زمین کے ملوک ہیں ۔ قاضی کی کیا مجال کہ وہ ہمارے سامنے دم مارسکے۔ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے اس کی گردن مار دوں گا۔ یہ کہہ کر اپنے اعوان و انصار کی ایک جماعت لے کر چلا، سب کے سب غصے میں بھرے ہوئے اور ننگی تلواریں ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے۔ جب ان کے گھر کے پاس پہنچے تو شور سن کر ان کا لڑکا باہر نکل آیا۔ کیفیت دیکھ کر سہما ہوا اندر بھاگا اور باپ کو مطلع کیا۔ نہایت بے پروائی سے بولے۔’’تیرے باپ کا یہ رتبہ کہاں کہ راہِ حق میں اس کا خون بہایا جائے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے باہر نکل آئے۔ نائب السلطنت کی نگاہ جب ان کے اوپر پڑی تو جلالِ حق سے کانپنے لگا۔ تلوار ہاتھ سے گر گئی اور رو کر بولا ’’یا مولانا! آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’تم لوگوں کو فروخت کروں گا۔‘‘ بولا کہ ’’قیمت کون لے گا؟‘‘ جواب دیا کہ ’’میں ، اور اس کو بیت المال میں داخل کروں گا۔‘‘ چنانچہ یہی کیا اور سربازار ان سب کو فروخت کرا دیا۔ قاضی عزالدین اربابِ حال میں سے تھے اور ان کا لقب سلطان العلماء تھا۔‘‘[2] چوتھا اقتباس:اور اب یہ بھی دیکھئے کہ راگ رنگ اور گیت سنگیت کے رسیا حکمرانوں کے