کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 208
اسلام تو ’’عقل و فکر کے تقاضوں کو پورا کرنے والا‘‘ دکھائی نہیں دیتا، لیکن خود ان کا اپنا اسلام، جسے اُنہوں نے مغربی معاشرت کے اقدار و اطوار کو اشتراکی معیشت کے ساتھ نتھی کرکے پیش کیا ہے، اُنہیں عین ’’عقل و فکر کے تقاضوں کو پورا کرنے والا نظر‘‘ آتا ہے ؎ بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئے 9. ’’جب خلفاے راشدین کے جانشینوں نے سیاسی معاملات تو اپنی ملوکیت کی گرفت میں لئے اور مذہبی اُمور کو پیشوائیت کے سپرد کردیا، بظاہر یہ دو الگ الگ کیمپ دکھائی دیتے تھے لیکن ان کے مابین ایک ملی بھگت اور ’شریفانہ معاہدہ‘ کم و بیش ہر دور میں قائم رہا۔ مسلمان حکمران ان مذہبی پیشواؤں کے لئے مالی وظائف کا انتظام کرتے اور اس کے بدلے میں مذہبی پیشوائیت ان حکمرانوں کو ’امام المسلمین‘ اور ’ظل اللہ‘ کے مقدس خطابات سے یاد کرتی۔‘‘[1] حقیقت یہ ہے کہ سچ کی تو کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے جس سے آگے سچا آدمی تجاوز نہیں کرسکتا، لیکن جھوٹ کی کوئی حد ہی نہیں جہاں کوئی کاذب جاکر رک جائے۔ وہ جس قدر چاہے اپنی داستانِ زُور کو پھیلاتا چلا جائے، کوئی پوچھنے والانہیں ! (ا لف)’مفکر ِقرآن‘ نے یہاں جو کچھ فرمایا ہے، وہ سرتاپا جھوٹ ہے۔ خلافت ِراشدہ کے بعد ملوکیت نے اپنے سیاسی اقتدار کی مضبوطی اور استحکام کے لئے جب قرآن و سنت کی راہ سے گریز کیا اور ان کی سیاسی مصلحتیں دینی نصب العین پر حاوی ہوگئیں تو اربابِ اقتدار دین کی خدمت کیا کرتے بلکہ الٹا وہ خدامِ دین علما وائمہ کی مساعی ٔ دین میں روڑے اَٹکانے لگے اور علماے کرام اور ائمہ عظام نے جو کچھ بھی اشاعت ِاسلام اور خدمت ِدین کے لئے کیا، وہ نہ صرف یہ کہ حکومتی وظائف سے بے نیاز ہوکر کیا، بلکہ اہل اقتدار کی سفاکیوں ، ستم شعاریوں ، جفاکاریوں اور خوں آشامیوں کے علیٰ الرغم کیا۔ میں اگر تاریخ اسلام سے ایسے واقعات کو پیش کروں تو پرویز صاحب کے اندھے مقلدین’مفکر ِقرآن‘ کا یہ رٹا رٹایا جملہ بول کر ان واقعات کو رد کردیں گے کہ __ ’’دین میں سند، نہ تاریخ کے مشمولات ہیں اور نہ مسلمانوں کے متواتر ومتوارث عقائد و مسالک، سند ہے خدا کی کتاب‘‘__ اور خدا کی کتاب کے سند ہونے کا معنی،