کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 207
ایک ’علم و بصیرت‘ وہ ہے جو ایمان باللہ، اعتقاد بالرسالت اور یقین بالآخرت کا نتیجہ ہے اور جس کے رسوخ کا ذریعہ قال ﷲ وقال الرسول کا گہرا مطالعہ ہے۔ یہ ایمان اور یہ مطالعۂ حیات و کائنات کے متعلق منفرد تصور پیدا کرتا ہے اور انسان کے قلب و ذہن کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالتا ہے، جس کے نتیجہ میں بندۂ مومن کے ردّو قبول کا جداگانہ معیار قائم ہوتا ہے اور وہ ہر چیز کو ایک مخصوص زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کا عادی ہوجاتا ہے۔
دو سرا ’علم و بصیرت‘ وہ ہے، جو اغیار کی ذہنی غلامی اور فکری اسیری کا نتیجہ ہے۔ انسان کی ’عقل وفکر‘ جحود باﷲ، انکارِ ر سالت اور کفر بالآخرت کے سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا معیارِ اَخذ و ترک وہ ہوتا ہے جو کفر نے پیش کیا ہے۔ اس کے جانچ پرکھ کے پیمانے، ان پیمانوں سے مختلف ہوتے ہیں جو اسلامی معتقدات کے پیدا کردہ ہیں ۔
پرویز صاحب کا ا لمیہ یہ ہے کہ وہ نام تو قرآن کا لیتے ہیں لیکن کام غیر قرآن کا کرتے ہیں ۔ الفاظ تو قرآن ہی کے بولتے ہیں لیکن مفاہیم مستشرقین سے لیتے ہیں ۔ آنکھیں تو اپنی ہی استعمال کرتے ہیں ، لیکن زاویۂ نگاہ دشمنان اسلا م سے لیتے ہیں ۔ کان تو سننے کے لئے وہ اپنے ہی برتتے ہیں لیکن جو کچھ سنتے ہیں وہ اللہ و رسول کی نہیں بلکہ کارل مارکس، چارلس ڈارون اور برگسان وغیرہ کی سنتے ہیں ،’عقل و فکر‘ سے کام تو لیتے ہیں ، مگر اُس عقل و فکر سے نہیں جو قرآن و سنت کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہے، بلکہ اُس سے جو اغیار کی ذہنی غلامی اور فکری اسیری کے نتیجہ میں تشکیل پاچکی ہے۔ زبان تو وہ اپنی ہی استعمال کرتے ہیں ، لیکن بولی،غیروں کی بولتے ہیں ، بقول شاعر ؎
ان ہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں ، زبان میری ہے، بات انکی
ان کی محفل سنوارتا ہوں ، چراغ میرا ہے، رات اُن کی!
’مفکر ِقرآن‘ صاحب علما کے پیش کردہ اسلام کو قرآن و سنت کے فراہم کردہ ’علم وبصیرت‘ کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے (قرآن کا نام لے کر) اُس ’علم و بصیرت‘ کی روشنی میں دیکھتے ہیں جو اغیار کی ذہنی غلامی اورفکری اسیری کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں علما کا پیش کردہ