کتاب: محدث شمارہ 297 - صفحہ 206
ہے اور لکھتا ہے:
’’اس مقالہ کی اشاعت سے ہمارے پیش نظر یہ دکھانا بھی مطلوب ہے کہ ایک مفکر کی فکر کن ارتقائی منازل میں سے گزرتی ہے۔‘‘ (ملاحظہ فرمائیے، طلوع اسلام: مئی ۱۹۷۷ء، ص۴۱)
جس طرح پرویز صاحب کی متضاد اور متناقض تعبیرات قرآن کو یہ لوگ ’ارتقا‘ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم سے نچوڑی گئی متضاد تعبیرات کو ’ارتقا‘ کا خوشنما نام دیتے ہیں حالانکہ ان کی بعد والی تعبیر، پہلی تعبیر کی ’ارتقا یافتہ شکل ‘ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک نئی تعبیر کی ’اختراع شدہ صورت‘ ہوتی ہے۔
ہمارے ’مفکر قرآن‘ صاحب اپنی ’اختراعی تعبیراتِ قرآن‘ کو ’ارتقائی تعبیرات‘ قرار دیتے ہیں ، خواہ جہالت کا مظاہرہ کریں یا علمی خیانت کا، بہرحال یہ ایک معیوب حرکت ہے۔ علماے کرام’ارتقا‘ اور ’اختراع‘ کے مفہوم سے بخوبی واقف ہیں ۔ وہ جاہل نہیں ہیں کہ ان دونوں الفاظ کو مترادف المفہوم اور متماثل المعنی قرار دیں ، اور نہ وہ بددیانت ہی ہیں کہ عملاً ’اختراع‘ کا رویہ اپنائیں لیکن قولاً اسے ’ارتقا‘ باور کروائیں ۔ وہ اسلام کو جامد اور متصلب نہیں سمجھتے (جیسا کہ پرویز صاحب نے ان پر الزام تراشی کی ہے) بلکہ اُصولِ اجتہاد کی روشنی میں اسلام کے ہر دور میں قابل عمل ہونے کو تسلیم کرتے ہیں ۔ البتہ وہ لوگ اسلام کو ضرور جامد اور متصلب سمجھتے ہیں جو قرآن کریم کو (’ارتقا‘ کے نام پر) اپنی اختراعات کا نشانہ بناتے ہیں ، اور اُلٹا ’’چور، کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق علما پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ
’’مُلاّ کا نظریہ یہ ہے کہ اسلام، ایک جامد اور متصلب مذہب ہے۔‘‘
8. ’’اصل یہ ہے کہ ہمارا قدامت پسند طبقہ، جو کچھ مذہب کے نام سے پیش کرتا ہے، اس میں اس کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ علم و بصیرت کی کسوٹی پر پورا اُترے اور عقل و فکر کے تقاضوں کو پورا کرسکے۔‘‘[1]
سوال یہ ہے کہ وہ کون سا ’علم‘ اور کون سی ’بصیرت‘ ہے جس کی ’کسوٹی‘ پر علماے کرام کے پیش کردہ اسلام کو پرکھا جارہا ہے؟ اور جس ’عقل و فکر‘ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دُھن، دل ودماغ اور حواس و مشاعر پر چھائی ہوئی ہے، وہ کن سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہے۔