کتاب: محدث شمارہ 289 - صفحہ 78
(3) أنها أمت النساء في صلوة المغرب فقامت وسطهن وجهرت بالقراء ة ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مغرب کی نماز میں عورتوں کی امامت کرائی ، پس عورتوں کے درمیان کھڑی ہوئیں اور بلند آواز سے قراء ت فرمائی۔“ (المحلّٰی: 4/219) (4) اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کو نمازِ عصر پڑھائی۔ (الام: 1/164) (5) عن علي قال دخلت أنا ورسول الله علىٰ أم سلمة فإذا نسوة في جانب البيت يصلين فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : (يا أم سلمة أي صلاة تصلين؟) قالت يا رسول الله! المكتوبة. قال رسول الله: (أفلا أمَمْتِهنَّ؟) قالت: يا رسول الله أو يصلح ذلك؟ قال صلی اللہ علیہ وسلم : (نعم تقومين وسطهن لا هن أمامك ولا خلفك وليكن عن يمينك وعن شمالك) ”حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُم المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو خواتین کو گھر کے ایک طرف نماز پڑھتے پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اُم سلمہ! یہ کونسی نماز پڑھ رہی ہیں ؟اُنہوں نے جواب دیا: فرض نماز تو آپ نے کہا: تم ان کی امامت کیوں نہیں کراتی؟ امّ سلمہ کہنے لگیں : کیا عورتوں کی امامت درست ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تم ان کے درمیان کھڑی ہوجاؤں ، نہ تم ان کے آگے اور نہ وہ تمھارے پیچھے بلکہ وہ تمہارے دائیں بائیں کھڑی ہوجائیں ۔“ (مسند زید رحمۃ اللہ علیہ بن علی رحمۃ اللہ علیہ بن حسین رضی اللہ عنہ :ص 111، دارالکتب العلمیہ) (6) عن أمّ سلمة أنها أمَّتْهُنَّ فقامت وسطًا (سنن کبریٰ از بیہقی :3/131،رقم 5140) ” حضرت اُمّ سلمہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان عورتوں کی امامت کرائی اور آپ درمیان میں کھڑی ہوئیں ۔“ (7) عن أمّ الحسن أنها رأت أم سلمة زوج النبي صلی اللہ علیہ وسلم توٴم النساء فتقوم معهن فى صفهن (مصنف ابن ابى شيبه:ج1/ ص 430،رقم4953 ) ”امّ حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت اُمّ سلمہ کو دیکھا کہ وہ عورتوں کی امامت کرا رہی تھیں اور ان کے ساتھ ہی صف میں کھڑی تھیں ۔“ علامہ ابن حزم اس حدیث کے متعلق المُحلّٰى (4/220) میں فرماتے ہیں : ”یہ بہترین سند ہے، اسکے سب راوی انتہائی ثقہ ہیں ۔ یہ سند کیا ہے سونے کی ایک لڑی ہے“