کتاب: محدث شمارہ 289 - صفحہ 26
قواعد کی رو سے درست بنتا ہے، اور یہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے ہیں ، یہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ نہیں ہیں ، نہ یہ کوئی اضافہ ہے، بلکہ نفس مسئلہ میں نص قطعی اور دلیل واضح کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ نظر بھی محدثانہ ہو، منہج بھی محدثانہ ہو اور مقصد بھی محدثانہ ہو۔ یعنی حدیث میں اپنے نظریے کو گھسیڑنا نہیں ، بلکہ حدیث کی روشنی میں ہر بات کو سمجھنا اور نظریہ قائم کرنا ہو۔ ورنہ وہی بات ہوگی۔ ع دیدہٴ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے!! فتنہٴ امامت ِ زن کی بانی و محرک اور اس کا کردار، حقائق کی روشنی میں اس کے بعد ’اشراق‘ کے مضمون نگار نے بعض فقہا کے اقوال امامت ِ زن کے جواز میں نقل کئے ہیں اور اس میں بھی گھپلے کئے ہیں ، لیکن حضرت اُمّ ورقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور اس سے استدلال کی حقیقت واضح کرنے کے بعد ہم اقوالِ فقہا پر بحث کو ضروری نہیں سمجھتے۔ تاہم فتنہٴ امامت ِزن کے برپا کرنیوالوں کی بابت اور بہت سی باتیں نہایت مستند ذرائع سے سامنے آئی ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں ، وھ بھی پیش کردی جائیں تاکہ اس تحریک کا سارا کچا چٹھہ سامنے آجائے۔ ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری ڈائریکٹر اسلامی سینٹر، کنکنی کٹ ، اسٹمفرڈ، امریکہ لکھتے ہیں : ”عورت کی امامت اور مسجد میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں کی نماز کی تحریک کی اصل محرکہ اور روحِ رواں مارگن ٹاوٴن ویسٹ ورجینیا کی ایک نام نہاد مسلمان اسریٰ نعمانی ہے۔ چار سال قبل اسریٰ نعمانی نے عورت کی امامت کے فتنے کی بنیاد اس طرح رکھی کہ وہ اپنی چند ہم خیال عورتوں کو لے کر مارگن ٹاوٴن ویسٹ ورجینیا کی مسجد میں گھس گئی اور ان عورتوں نے مطالبہ کیا کہ اُنہیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ مسجد کی انتظامیہ نے اُنہیں مردوں کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی اجازت دے دی لیکن مردوں کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے منع کردیا۔ اسریٰ نعمانی یہ معاملہ عدالت تک لے گئی، عدالت نے اسریٰ نعمانی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اسریٰ نعمانی اور اس کے ساتھیوں کا یہ طریقہٴ کار ہے کہ وہ اعلان کردیتے ہیں کہ وہ فلاں فلاں دن فلاں مسجد میں مخلوط نماز پڑھیں گے، پھر اس دن وہ اس مسجد میں گھس جاتے ہیں ، باہر پولیس، ان کے تحفظ کے لئے موجود ہوتی ہے … اس اسریٰ نعمانی کے ساتھ ایسے ایسے واقعات و حقائق