کتاب: محدث شمارہ 288 - صفحہ 26
عذاب آجاتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ (جن کا مشورہ ان قیدیوں کے قتل کا تھا) کے سوا کوئی نہ بچتا۔“ 44
اس واقعہ سے متعلق قرآن کریم میں ہے :
﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أنْ يَكُوْنَ لَه أسْرىٰ حَتّٰى يُثْخِنَ فِىْ الأَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيْدُ الآخِرَةَ… الاية﴾ 45
” نبی کی شان کے یہ لائق نہیں کہ اس کے قیدی (باقی) رہیں ، یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خوں ریزی نہ کرے۔ تم لوگ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ (تمہارے لئے) آخرت چاہتا ہے۔“
مقصد یہ ہے کہ شوریٰ یا پارلیمنٹ میں بنیادی دستور (کتاب و سنت) کے علاوہ دوسرے اُمور ہی زیر غور کیوں نہ ہوں ، کتاب و سنت کے ماہرین کی پھر بھی ضرورت ہے۔ اس لئے اس بارے میں جن حضرات نے ارکانِ شوریٰ کے نمائندہ ہونے پر زور دیا ہے، تدبیری اُمور کی حد تک اس کی اہمیت تسلیم ہے،کیونکہ تدبیر وہی کامیاب ہوتی ہے جس میں تدبیر کرنے والوں کو رعایا کا اعتماد حاصل ہو… ”وأمرهم شورٰى بينهم“ کے قرآنی حکم کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اعتماد کی فضا پیداہوتی ہے۔ تاہم ان تدبیری اُمور میں شرعی احکام کی مطابقت کی جو شرط ہے، اس کے لئے ماہرین شریعت کی طرف سے نگرانی لازمی ہے۔
٭ شرعی اُمور کی نگرانی کسی الیکشن اور سلیکشن کے بغیر بھی علماے دین پر فرض کفایہ ہے مگر پارلیمنٹ خود اپنے اوپر اگر کچھ ماہرین شریعت و قانون کو نگران بنانا چاہے تو موجودہ حکومتی ڈھانچہ کے ایوانِ بالا (سینٹ) میں انہیں اسی طرح لایا جاسکتا ہے جس طرح ٹیکنو کریٹس کو لیا جاتا ہے۔
٭ چونکہ ہر چیز کی اہمیت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے، اس لئے ماہرین شریعت کی غیرمعمولی ضرورت واہمیت کی بنا پر ان کو حیثیت و وقار بھی ویسا ہی ملنا چاہئے۔اور یہ امر زبانی تجاویز سے زیادہ عملاً ان کی اہمیت کا احساس اُجاگر کرنے کامقتضی ہے۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کے ساتھ وفاقی شرعی عدالت یا اسلامی نظریاتی کونسل کا جو آئینی مقام ہے وہ ناکافی اور غیرموٴثر ہے۔