کتاب: محدث شمارہ 286 - صفحہ 168
پاٹ کہتے ہیں ) رکھ دیتا ہے۔ پاٹ پر ایسی اشیا کے ڈھیر لگ جاتے ہیں ۔ نیز یہ اشیا جب تبرک کا مقدس درجہ حاصل کرچکتی ہیں تو ان کی جماعت خانہ میں برسرعام بولی کردی جاتی ہے۔ متبرک ہونے کی وجہ سے ان اشیا کی قیمت میں بہت اضافہ ہوجاتاہے۔ اسی بولی یا نیلامی کا نام ان کی زبان میں ’نادی‘ ہے ۔ نادی سے یہ رقم ہر جماعت خانہ میں روزانہ ہزاروں تک جا پہنچتی ہے اور تہواروں کے دن تو اس آمدن میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوجاتاہے۔ ایسی تمام رقوم امام حاضر کے کھاتے میں جمع ہوجاتی ہیں اور اس طرح اسماعیلی روزانہ اپنے امام کی مہمانی کا حق ادا کرتے رہتے ہیں ۔ (3) چھانٹے اگر عام پانی پر ناد عليًّا والی مشہور مشرکانہ رباعی پڑھ کر تین بار اس پانی پر دم کیا جائے تو یہ پانی چھانٹے (یا چھینٹے مارنے) کے لئے تیار ہے۔ یہ چھانٹے ”(i)گناہوں کی معافی کے لئے (ii)دسوند میں بھول چوک کے لئے (iii)قیامت کے دن کی شفاعت کے لئے (iv)بیمار کے بستر پر شفا اور صحت کے لئے (v)غسل میت کے بعد مغفرت کے لئے وغیرہ وغیرہ ڈالے جاتے ہیں ۔ چھانٹے کی رسم کے وقت چھانٹے ڈلوانے والا ’بندہ گناہ گار گت بخشے شاہ پیر بخشے‘ کہے۔ اس کے بعد چھانٹا ڈالنے والا شخص تین مرتبہ چھانٹا ڈالتے ہوئے ہر بار ’فرمان‘ کہے اور اس وقت چھانٹا ڈلوانے والا ’یاعلی، یا محمد‘ کہے۔“[1] اسماعیلیوں کی اس مذہبی رسم کی اہمیت ان مواقع سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے جن پر ہم نے نمبر لگا دیے ہیں ۔ (4) گناہوں کی معافی امام حاضر کی مہمانی کے بہت سے طریقے اسماعیلیوں میں رائج ہیں ۔ پہلا تو وہی ہے جس کا ذکر نادی کے سلسلے میں آچکا ہے۔ اقتباسِ ذیل میں اس طریقہ کے علاوہ دوسرے بھی چند طریقوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے : ”جب یہ ممکن نہ رہا کہ امام الوقت مریدوں کے گھر جاکر ان کی دعوت قبول فرمائیں تو