کتاب: محدث شمارہ 286 - صفحہ 159
(5) حج اسلام کا پانچواں رُکن ہر صاحب ِاستطاعت پر زندگی میں ایک باربیت اللہ کا حج اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔ اسماعیلی حضرات اس فریضہ سے بھی آزاد ہیں ۔ کوئی اسماعیلی کاروبار کی غرض سے یا از راہ سیروتفریح مکہ چلا جائے اور وہاں حج یا عمرہ کرلے تو اسے اس بات کی اجازت ہے۔ حج یا عمرہ کو ایک فریضہ سمجھ کر کوئی اسماعیلی ارادتاً اور تکلّفاً وہاں نہیں جاتا۔ ب : دیگر اسلامی شعائر ارکانِ اسلام کے علاوہ کچھ ایسے اسلامی شعار بھی ہیں جنہیں مسلمانوں کے سب فرقے تسلیم کرتے ہیں مگراسماعیلیوں نے ان میں یا تو نئی راہ نکال لی ہے یا بالکل متضاد روش اختیار کررکھی ہے اور وہ درج ذیل ہیں : (1)سلام اور سلام کا جواب مسلمانوں کے تمام فرقوں میں مسنون سلام و جواب السلام علیکم اور وعلیکم السلام ہے، لیکن اسماعیلی فرقہ اس مسئلہ میں متضاد روش اختیار کرتا ہے۔ ان کے ہاں سلام و جواب کو مندرجہ ذیل دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے : (1) جب کوئی دیندار جماعت خانہ میں جائے تو کہتا ہے ’ہے زندہ؟‘ دوسرے اسے جواب دیتے ہیں : ’قائم پایا‘[1] دراصل اس سوال و جواب میں اسماعیلیوں کا اپنے امام کے متعلق حی قیوم ہونے کے عقیدہ کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آنے والا پوچھتا ہے: کیا ہمارا امام زندہ ہے؟ اور جواب دینے والا کہتا ہے: ”ہم نے تو اسے قائم ہی پایا ہے۔“ اس طرح ہر آن مریدوں کی ذہن سازی کی مہم جاری رہتی ہے۔ (2) اور جماعت خانہ سے باہر جب کسی کو سلام کہنا ہو تو کہنے والا کہتا ہے ’یاعلی مدد!‘ اور جواب دینے والا کہتا ہے:’مولا علی مدد ‘ ان کی درسی کتاب میں یہ مضمون یوں ادا کیا گیا ہے : ”یاعلی مدد‘ ہمارا سلام ہے۔’مولا علی مدد‘ سلام کا جواب ہے۔“[2]