کتاب: محدث شمارہ 286 - صفحہ 156
اس وقت نماز کا تارک ہے اور اسے تسلیم نہیں کرتا۔ وہ صلوٰة کے معنی ’دعا‘ کرکے اس شرعی تکلیف سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں اسماعیلی تعلیمات کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے : (1) ”ہمارے نزدیک اس (لفظ صلوٰة) سے مراد وہ خاص عبادت ہے جو مقررہ اوقات پر کی جاتی ہے۔ مقررہ اوقات پر دُعا پڑھنا ہر موٴمن پر فرض ہے۔ قرآن پاک میں دعا کے لئے صلوٰة کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔“[1] (1) ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق صلوٰة (دعا) موٴمن کی معراج ہے۔“[2] مسجد کے بجائے جماعت خانہ اسماعیلی چونکہ نماز نہیں پڑھتے لہٰذا اپنی ’دعا گاہ‘کو مسجد بھی نہیں بلکہ ’جماعت خانہ‘ کہتے ہیں ۔ جبکہ دنیا بھر کے دیگر تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنی عبادت گاھ کو مسجد ہی کہتے ہیں ۔ اقتباس : ”یوں تو دعا کیسے بھی ادا کی جاسکتی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ دعا پڑھنے کے لئے موٴمن مولا کے گھر یعنی ’جماعت خانہ‘ جائے۔“[3] دُعا بھی روزانہ صرف دو بار فرض ہے! یعنی صبح کی اور شام کی دعا۔ آج کل جو دعا جماعت خانوں میں پڑھی جاتی ہے،یہ حاضر امام شاہ کریم حسینی کی منظور شدہ ہے جو اُنہوں نے 21 مارچ 1970ء کو منظور[4]فرمائی۔ اس سے پہلے یہ فرقہ صلوٰة یا دعا کون سی اور کیسے پڑھتا تھا، وہ ہمیں معلوم نہیں ۔ موجودہ منظور شدہ دعا کے چہ حصے ہیں ۔ چھٹے حصہ میں اسماعیلی اماموں کا شجرہ ہے۔ ہر حصے کے خاتمہ پر سجدہ کیا جاتا ہے جس میں پڑھا جاتا ہے:”اللهم لك سجودي وطاعتي“جب سجدہ کیا جاتا ہے تو ہر جماعت خانہ میں سامنے حاضر امام کی قد آدم تصویر موجود ہوتی ہے جس کے مطلب کے وضاحت کی ہمیں ضرورت نہیں ۔ مکھی اور کامڑیا