کتاب: محدث شمارہ 285 - صفحہ 70
كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ ٭ خُذُوْه فَاعْتِلُوْهُ إلٰى سَوَآءِ الْجَحِيْمِ ٭ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَأسِه مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ٭ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ﴾ (الدخان44تا47) ”زقوم کا درخت مجرم کا کھانا ہوگا، تیل کی تلچھٹ جیسا ۔پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔ (اللہ کی طرف سے حکم ہوگاکہ )پکڑ لو اس مجرم کو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے اندر لے جاوٴ اور اس کے سر کے اوپر جہنم کا کھولتا ہوا پانی ڈالو۔ لو اب چکھو اس عذاب کا مزا! تو دنیا میں بڑا زبردست اور عزت دار بنتا تھا۔“ اب جہنمی درخت کا حال کہ کتنا خوفناک، زہریلا اور صبرآزما ہوگا : ﴿أذٰلِكَ خَيْرٌ نُزُلاً أَمْ شَجَرَةَ الزَّقُّوْمِ ٭ إنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلْظٰلِمِيْنَ ٭ إنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِيٓ أَصْلِ الْجَحِيْمِ ٭ طَلْعُهَا كَأَنَّه رُوٴوْسُ الشَّيٰطِيْنِ ٭ فَإنَّهُمْ لأَٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ ٭ ثُمَّ إنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ ٭ ثُمَّ إنَّ مَرْجِعَهُمْ لإَِلىٰ الْجَحِيْمِ﴾(الصافات:62 تا 70) ”بتاوٴ! یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت ؟ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لئے فتنہ بنا دیا ہے۔ وہ ایک درخت ہے جوجہنم کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر ۔جہنمی اسے کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے۔ پھر اس پر پینے کے لئے اُنہیں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش جہنم کی طرف ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا اور انہیں کے نقش قدم پر دوڑ چلے۔“ لیکن یہ کھانا شدت بھوک سے کفایت نہیں کرے گااور نہ ہی جسمانی قوت کیلئے سود مند ہو گا ﴿لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ٭ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِىْ مِنْ جُوْعٍ﴾ ”ایک کانٹوں والی ، بدبودار اور زہریلی گھاس کے سوا اور کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔“ (الغاشیہ:6،7) اس کے علاوہ ان مجرموں کا کھانا جہنمیوں کی وہ بدبودار پیپ ہوگی جو جہنم کی گرمی اور لپٹ کی وجہ سے ان کے گوشت اور جلدوں سے بہے گی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلاَ طَعَامٌ إلَّا مِنْ غِسْلِيْنَ ٭ لاَ يَأكُلُه إلَّا الْخَاطِئُوْنَ﴾ (الحاقہ: 36 ، 7 3 ) ”اور ان کا کھانا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی جس کو صرف اللہ کے یہ