کتاب: محدث شمارہ 285 - صفحہ 20
معاشرے کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی میں تحلیل ہوچکی ہے۔ پیرس شہر کے اندر ایسی بے شمار اعتدال پسند اور روشن خیال سڑکیں ہیں جو شام ہوتے ہی ہم جنس پرستوں کی منڈیاں بن جاتی ہیں جہاں روشن خیال مرد روشن خیال مردوں کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں اور اعتدال پسند عورتیں اعتدال پسند عورتوں کو دعوت دیتی ہیں۔یہ سلسلہ صرف فرانس تک محدود نہیں اس وقت پورا یورپ،امریکہ اور مشرقِ بعید اس روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے ہاتھوں تباہ ہوچکا ہے۔“ کتنی دردمندی اور جگر سوزی کے تحت جاوید چودہری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مغرب جس روشن خیالی سے تنگ آکر دوبارہ مذہب کی گودمیں پناہ لے رہا ہے، ہم اس کی طرف دوڑ رہے ہیں: ”آپ یورپ اور امریکہ کے معاشروں کا بغور مطالعہ کریں، گہرائی سے ان کا تجزیہ کریں آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ معاشرے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی دلدل میں دھنس چکے ہیں اور وہاں کی حکومتیں اور دانشور اُنہیں اسی دلدل سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ وقت کے پھئے کو واپس دھکیلنے کی سعی کررہے ہیں،لیکن ان کے مقابلے میں ہم لوگ روایت، مذہب اور ثقافت سے بھرپور معاشرے کو اعتدال پسندی اور روشن خیالی کی صلیب پر چڑھا رہے ہیں۔ ہم لوگ اپنے پاک صاف جسم کو لنڈے کے کپڑے پہنا رہے ہیں۔ اپنے چمکدار چہرے پر مغرب کی گندگی مل رہے ہیں اور یورپ اور امریکہ کی گندی جرابوں کی ٹوپی سی کر سر پر پہن رہے ہیں۔ یہ ہم کیا کررہے ہیں؟“ (روزنامہ جنگ، 6 جنوری 2005ء) ٭ جناب عرفان صدیقی صاحب جنہوں نے امریکی استعمار کی وحشیانہ غارت گری کے خلاف پاکستانی عوام ہی نہیں، ملت ِاسلامیہ کے جذبات کی مسلسل ترجمانی کا بے حد تابناک فریضہ انجام دیا ہے، نے اپنے کالموں میں مشرف حکومت کی نام نہاد روشن خیالی کا بے حد موٴثر انداز میں پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ اپنے ایک کالم ’انتہا پسندی اور روشن خیالی‘ میں صد رپرویز مشرف کے بیان پر عالمانہ تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کیا : ”نائن الیون کے تناظر میں ہمارا مقدر بن جانے والا ذہنی، نفسیاتی اور اعصابی دباوٴ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف شدید ہوتا جارہا ہے بلکہ اب اس کی حدیں ہمارے مسلمہ عقائد اور نظریاتی و تہذیبی تشخص سے بھی چھیڑ چھاڑ کرنے لگتی ہیں۔ اب ہم روشن خیال