کتاب: ماہنامہ شماره 283 - صفحہ 76
گرد ی ہے، افغانستان میں امریکی جارحیت مبنی بر انصاف ہے او راسامہ بن لادن دہشت گردہے، فلسطین میں مسلمان دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ ثقافتی ایجنڈا : پردہ ضروری نہیں ، نبی کریم اور صحابہ کرام موسیقی سنتے اور رقص دیکھا کرتے تھے ، تصویر میں کوئی مضائقہ نہیں ، مجسمہ سازی میں کوئی قباحت نہیں ، داڑھی بڑھانا اسلامی تقاضا نہیں ، بسنت اور ویلنٹائن ڈے منانا غیر اسلامی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ یہ اور اس جیسے کئی انحراف ایسے ہیں جواس گروہ کا اصل چہرہ واضح کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ یہ کس قسم کے اسلام کو یہاں متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ ان کے انحرافات کامدار حدیث سے گریز پر ہے۔ جناب حسن مدنی نے اہل حدیث کی حدیث کے دفاع سے بے اعتنائی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وہ وقت تھا کہ حدیث ِنبوی کے خلاف کوئی آواز اُٹھتی تو اہل حدیث زعما مثلاً حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد اسما عیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد محدث گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ کا قلم اپنی پوری تابناکی کے ساتھ حرکت میں آجاتا۔ مولانا عطاء اللہ حنیف نے دفاعِ حدیث کے لئے مخصوص رسالہ ماہنامہ ’رحیق‘ نکالا جو ملک بھر میں حدیث پر ہونے والے کسی بھی حملہ کے خلاف شمشیر بے نیام تھا لیکن آج ہم اس فرقہ کے انحرافات کاتو رونا روتے ہیں ، لیکن اس کے جواب میں ابھی تک کوئی موٴثر آواز کہیں سے سنائی نہیں دے رہی ۔آج اگر اس مذاکرہ سے ہمارے اندر حدیث کے دفاع کا احساس پیدا ہوجائے تو یہ بہت غنیمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گروہ کے انحرافات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں او راس کا اصل چہرہ نکھرتا جارہا ہے لیکن ان کے جواب میں کافی وشافی علمی کام نظر نہیں آتا۔ اس گروہ سے اہل حدیث نوجوا ن بھی بکثرت متاثر ہورہے ہیں کیونکہ وہ کوئی تعصب نہیں رکھتے۔ دوسری طرف فرقہ غامدیہ کے گمراہ خیالات کو بعض حنفی علما نے اختیار کرکے اپنے عوام میں بھی پھیلانا شروع کردیا ہے۔ ہمارے نامور علما قدیم حنفیت کے دفاع میں جس طرح اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہیں کاش کہ وہ حنفیت کے اس جدید پہلو پر بھی اپنے قلم کو حرکت میں لائیں ۔ کسی دینی مدرسہ کے چند طلبہ ہی اگر یہ عزم کرلیں کہ وہ ا س گروہ کے افکار کا مطالعہ کرکے دلیل وبرہان کی بنا پر ان کا جوا ب دینے کی اہلیت پیدا کریں گے اور میدانِ عمل میں اُترنے