کتاب: ماہنامہ شماره 283 - صفحہ 52
اور قراء اتِ سبعہ عشرہ کی تعلیم میں نمایاں خدمات انجام دے رہا۔ خصوصاً آغازِ کار میں اس شعبہ کے تعارف کے لئے1992ء تا1996ء میں پررونق محافل قراء ات کا انعقاد کیا جاتا تھا اور بلاتفریق مسلک پاکستان بھر کے قراء ان محافل کی رونق بنتے تھے۔ حیرانگی ہے کہ ایک شخص پورے پاکستان کے مدارس کا دورہ کرتا ہے اور لاہور میں تجوید وقراء ت کے سب سے بڑے ادارہ پر اس کی نظر نہیں پڑتی، اسے ہم تجاہل عارفانہ نہ کہیں تو کیا کہیں کہ پاکستان کے ایک بہت بڑے ادارہ کو اس لئے نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ خدمات کا اعتراف نہ ہوجائے، تنگ نظری کایہ رویہ علما کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے زیرنگرانی ادار وں میں اس قسم کے تعصب کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، ابھی حال ہی میں محدث میں دینی مدارس میں تحقیق وصحافت کے موضوع پر لکھا جانے والا مقالہ اُٹھا کر دیکھ لیں ، اس میں کسی مخصوص مکتبہ فکر کے اداروں کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ کلیہ القرآن کے قیام کا مقصد:اس کے بعد انہوں نے كلیۃ القرآن کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اس کا مقصد محض ظاہری تلاوت میں حسن اور سنوار پیدا کرنا نہ تھا،بلکہ مقصد یہ تھاکہ معاشرہ میں قاری عالم کا تصور اُجاگر کیا جائے، سبعہ احرف اور قراء اتِ قرآنیہ کے حوالہ سے جو فتنے اور گمراہ کن نظریات سراُٹھا رہے ہیں ، ان کی سرکوبی کی جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واحد ادارہ ہے جہاں 10 قراء ات، ان کی 20 روایات اور 80 وجوہ کی طلبہ کو تعلیم دی جاتی ہے ، دنیا میں یہ تعلیم اساتذہ کے انفرادی حلقات میں تو اب بھی دی جاتی ہے، لیکن ادارہ جاتی سطح پر یہ ادارہ اس کی واحد مثال ہے، حتیٰ کہ مدینہ منورہ یونیورسٹی جس کے کلیہ القرآن کو سامنے رکھ کر یہ شعبہ تشکیل دیا گیا، وہاں بھی یہ تعلیمی وسعت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہیں ہے کہ ابھی ہم اپنے مقاصد کے حصول میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے۔قراء اتِ قرآنیہ کی تدریس میں تو ہم نے کامیابی حاصل کی ہے ،لیکن قراء اتِ قرآنیہ کے حوالہ سے پائے جانے والے گمراہ کن نظریات اور شکوک و شبہات کے ازالہ میں ہم کوئی اہم کردار ابھی تک ادا نہیں کرسکے۔لاہور میں ایک طبقہ (غامدی گروہ) مستشرقین کے پھیلائے ہوئے گمراہ کن نظریات کا حامل ہے اور شکوک و شبہات کو ہوا دینے میں مصروفِ کار ہے اور یونیورسٹیوں کا جدید طبقہ اس سے متاثر ہورہا ہے۔ چند سال قبل لاہور کی ایک بہت فاضل شخصیت کو جامعہ میں لیکچرکی دعوت دی گئی اور اُنہوں