کتاب: محدث شمارہ 267 - صفحہ 60
علامہ سید سابق امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ سے ناقل ہیں کہ ’’مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بالعموم طریقہ نہ تھا، بلکہ عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدکے باہر نمازِ جنازہ پڑھا کرتے تھے، اِلا یہ کہ جب مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا کوئی معقول سبب ہو، بعض موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی ہے جیسے کہ ابن بیضا رضی اللہ عنہ کا معاملہ میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنازہ کی نماز مسجد کے اندر و باہر ہر دو جگہ پڑھی جاسکتی ہے، لیکن مسجد کے باہر ایسا کرنا افضل ہے۔‘‘(۱۱۴) علامہ عبدالعزیز محمد سلمان فرماتے ہیں ’’اگر مسجد پلیدی سے محفوظ رہے تو میت پر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مباح ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ :’’اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضا رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کی نمازِجنازہ مسجد میں پڑھی تھی اور سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ بھی مسجد میں پڑھی گئی تھی۔‘‘(۱۱۵) علامہ محمدناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’جنازہ پر مسجد میں نماز پڑھنا حدیث ِعائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے جائز ہے (پھر حدیث ِعائشہ رضی اللہ عنہا اور اس کے مخرجین کی بابت ذکر کرتے ہیں ) لیکن جنازہ پر مسجد کے باہر ایسی جگہ نماز پڑھنا افضل ہے جو نمازِ جنازہ کے لئے مقرر اور مخصوص ہو، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِمبارک میں ہوتا ہے اور بیشتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔‘‘(۱۱۶) علامہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں : ’’میں کہتا ہوں کہ اس جمع و تطبیق کے بعد جو حدیث صالح و حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیان ہوئی اور یہ کہ دونوں حدیثیں مسجد میں نمازِ جنازہ کی اباحت پر دلالت کرتی ہیں اور اس بات پر بھی کہ مسجد سے باہر نماز پڑھنا افضل ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جمع و تطبیق نفسانی خواہشات اور مسلکی تعصب سے پاک ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیشتر معمول رہا ہے، جیسا کہ ’احکام الجنائز‘ میں واضح کیا گیا ہے۔‘‘(۱۱۷) شیخ عبداللہ بن محمد الطیار فرماتے ہیں : ’’اگر تلویث (آلودگی) کا خوف نہ ہو تو مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے یہ امام شافعی، امام اسحاق، امام ابوثور اور امام ابوداود رحمہم اللہ کا قول ہے ، جبکہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ نے اسے مکروہ بتایا ہے۔‘‘(۱۱۸)