کتاب: محدث شمارہ 267 - صفحہ 29
دیتے ہیں کہ یہ واقعہ دارِ ارقم میں داخل ہونے سے قبل کاہے اور یہ اس کے بعدکا ہے۔گویا جس طرح عام الفیل اور حلف الفضول جیسے واقعات کے حوالے سے اہل مکہ اپنی معاصر تاریخ کے واقعات کا تعین کرتے تھے، مسلمان مؤرخین بھی مکی عہد ِنبوت میں سیرت وتاریخ اسلام کے واقعات کا تذکرہ اور اندراج بھی ہادیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں فروکش ہونے کے حوالے سے کرتے ہیں ۔مثلاًمؤرخ ابن اثیر نے مسعود رضی اللہ عنہ بن ربیعہ، عامر رضی اللہ عنہ بن فہیرہ،معمر رضی اللہ عنہ بن حارث وغیرہ کے تراجم (تذکروں )میں تصریح کی ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں منتقل ہونے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے۔اسی طرح مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر، صہیب رضی اللہ عنہ بن سنان،طلیب رضی اللہ عنہ بن عمیر، عماربن یاسر رضی اللہ عنہ ،عمر فاروق رضی اللہ عنہ وغیرہ کے تذکروں میں ابن اثیر نے تصریح کی ہے کہ یہ لوگ دارِ ارقم میں جاکر اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تھے۔(۱۸) ابن سعد نے مہاجرین مکہ میں سے اوّلین وسابقین اسلام کے قبول دین ِحق کو دومرحلوں میں تقسیم کیاہے اور یہ واضح کیا ہے کہ وہ حضرات کون کون تھے جو دارِ ارقم کو دعوتِ دین کا مرکز بنانے کے بعد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ابن سعدنے مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تذکروں میں یہ بات خصوصیت سے ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں تشریف فرماہونے سے قبل اسلام قبول کرچکے تھے:حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ،زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ، عبیدہ رضی اللہ عنہ بن حارث،ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بن عتبہ،عبداللہ رضی اللہ عنہ بن جحش،عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف،عبداللہ رضی اللہ عنہ بن مسعود،خباب رضی اللہ عنہ بن الارت،مسعود رضی اللہ عنہ بن ربیع،واقد رضی اللہ عنہ بن عبداللہ،عامر رضی اللہ عنہ بن فہیرہ،ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بن اسد،سعید رضی اللہ عنہ بن زید،عامر رضی اللہ عنہ بن ربیعہ،خنیس رضی اللہ عنہ بن حذافہ،عبداللہ رضی اللہ عنہ بن مظعون اور حاطب رضی اللہ عنہ بن عمرو۔ اسی طرح ابن سعدنے ان بزرگوں کی بھی نشاندہی ضروری سمجھی ہے جو دارِارقم کے اندر آکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِمبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ،عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، عاقل رضی اللہ عنہ بن ابی بکر،عامر رضی اللہ عنہ بن ابی بکر،ایاس رضی اللہ عنہ بن ابی بکراورخالد رضی اللہ عنہ بن ابی بکرشامل ہیں ۔(۱۹) ابن سعد کے اس طرزِ ترتیب سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک دارِ ارقم کو دین حق کی دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا مرکزو محور بنانے کا واقعہ ایک ایسانقطہ تغیر ہے جس نے دنیا کی