کتاب: محدث شمارہ 263 - صفحہ 348
لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے۔ لہٰذا اللہ اور رسول سے مراد وہ مرکز ِنظامِ اسلامی ہے جہاں سے قرآنی احکام نافذ ہوں ۔‘‘ (معراجِ انسانیت: ص۳۱۸)
اور اسی کتاب کے صفحہ ۳۲۳ پر لکھتے ہیں : ’’اس لئے مرکز ِملت کو قرآن کریم میں ’اللہ اور رسول‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔‘‘
قارئین! خود اندازہ فرمائیے کہ جب انسان اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق قرآن کی تفسیر کرتا ہے تو باقی احکام تو اپنی جگہ، خود اطاعت ِالٰہی اور اطاعت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور کو ہی بدل دیتا ہے اور مرکز ِملت یعنی سربراہانِ اسلامی مملکت کو ہی اُلوہیت اور رسالت کے مقام پر فائز کردیتا ہے۔
یہ نظریہ سرے سے ہی غلط ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عالمگیر ہے اور آپ قیامت تک کے لئے مطاع و مقتدیٰ ہیں اور آپ کا اُسوۂ حسنہ قیامت تک کے لئے واجب الاتباع ہے۔
تیسری صورت :تیسری اور صحیح صورت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی منشا اورحکم کے مطابق قرآنِ کریم کی تبیین و تفسیر فرمائیں اور اس کا عملی نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کریں ۔ جیسا کہ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
فکان السنة بمنزلة التفسير والشرح لمعانی أحکام الکتاب (الموافقات۴/۱۰)
’’گویا کہ حدیث کتاب اللہ کے اَحکام کی شرح و تفسیر ہے۔‘‘
ویسے بھی معمولی سی عقل کا حامل شخص بھی آسانی سے یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ صاحب ِکلام ہی مرادِ کلام سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اس کے مقتضی، مفہوم اور اسرارو رموز اور مقصود و مطلوب وہ خود بیان کرے تو تب ہی اس کی منشا کے مطابق تعمیل احکام ممکن ہوگی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دستورِ ابدی (قرآنِ کریم) کو نازل کرکے اس کے قوانین کی تمام شقوں کی توضیح بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھادی تھی تاکہ اُمت کے لئے قانونِ الٰہی کی کسی شق میں ابہام باقی نہ رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
(وَأَنْزَلْنَا إِلَيْکَ الذِّکْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِْم وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَکَّرُوْنَ) (النحل: ۴۴)
’’اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ’ذکر‘ اس لئے نازل کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس کے مطالب و مفاہیم بیان کریں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔‘‘
آیت ِمبارکہ میں لفظ لِتُبَیِّنَ کی ’ل‘ غایت کے لئے ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض وغایت قرآنی احکام کی تبیین اور وضاحت ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ’بیان‘ قرآن سے الگ چیز کا نام ہے اور اسی کو ’حدیث‘ کہا جاتا ہے۔
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (هُوَالَّذِیْ أَنْزَلَ إِلَيْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا)(الانعام ۱۱۴)
’’اللہ وہ ذات ہے جس نے آپکی طرف ایسی کتاب نازل کی جس کی تفصیل بیان کردی گئی ہے‘۔‘