کتاب: محدث شمارہ 261 - صفحہ 72
اخلاق و کردار کی تعمیر کے لئے تگ و دو کی جائے نیز دینی تعلیم و تربیت کے نظام کو ہر سطح پر مربوط ومنظم کیا جائے۔ …٭ مظلوم مسلمانوں کو ظلم وجبر سے نجات دلانے اور ان کے دینی تشخص اور علاقائی خود مختاری کی بحالی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ …٭ مسلم ممالک میں قرآن وسنت کی عمل داری اور شرعی نظام کے نفاذ کی راہ ہموار کر کے تمام مسلم ملکوں کو عالمی سطح پر کنفیڈریشن کی صورت میں خلافت اسلامیہ قائم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ …٭ دینی جذبہ وغیرت کے تحت ظالموں کے خلاف اور مظلوموں کے حق میں ہتھیار اٹھانے والے مجاہدین کو عالمی استعمار کے ہاتھوں ذبح کرانے اور ان کے قتل عام پر خوش ہونے کے بجائے ان کو بچانے کی کوشش کی جائے اور اس عظیم قوت کو ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے انہیں ملت اِسلامیہ کے لیے حقیقی معنوں میں ایک کار آمد قوت بنانے کی راہ نکالی جائے۔ …٭ اسلامی تعلیمات ،قرآن وسنت کے قوانین اور جہاد کے بارے میں عالمی استعمار اور مغربی تہذیب کے علم برداروں کے یک طرفہ اور معاندانہ پروپیگنڈے سے متاثر ومرعوب ہونے کے بجائے اس کو مسترد کیا جائے اور دلیل ومنطق کے ساتھ اسلامی احکام اور جہاد کی ضرورت وافادیت سے دنیا کو روشناس کرایا جائے۔ یہ کام دراصل مسلم حکومتوں کے کرنے کے ہیں اور انہیں او آئی سی کے عملی ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہئے لیکن ا گر دینی مراکز اور اسلامی تحریکات بھی باہمی ربط ومشاورت کے ساتھ ان مقاصد کے لیے مشترکہ پیش رفت کا اہتمام کر سکیں تو حالات کو خاصا بہتر بنایا جا سکتا ہے۔