کتاب: محدث شمارہ 261 - صفحہ 69
مسلم اقلیتوں کی جہاد میں شرکت ؟
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جہاد شرعی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے تو جو مسلمان غیرمسلم اکثریت کے ملکوں میں اقلیت (Minority) کے طور پر رہتے ہیں ، ان کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا ان کے لئے جہاد میں شمولیت ضروری نہیں ہے؟[1]
[1] فاضل موصوف نے مسلم اقلیتوں کے جہاد میں شمولیت اختیار کرنے کے حوالے سے یہ بڑی مناسب بات پیش کی ہے کہ ایسے مسلمان بھی دامے درمے اور سخنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومتوں کے معاہدات کے دائرے میں رہتے ہوئے دیگر مظلوم مسلمانوں سے ہر طرح کا تعاون جاری رکھیں ۔ لیکن اس سلسلہ میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اسلام اور مسلمان دنیا میں غیر اسلامی عقائد و نظریات کے حامل یا کافرانہ جبر و تسلط کے تحت ابدی طور پر مصالحت و مداہنت کے ساتھ رہنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ غیر اسلامی اور وضعی قوانین کے خلاف جدوجہد حتیٰ المقدور ہر مسلمان پر فرض ہے حتیٰ کہ جب مسلم اقلیتوں کو اجتماعی طور پر کسی کامیاب تدبیر سے اپنی کافر حکومتوں کے خلاف خروج کا یقین واعتماد ہو جائے تو ایسے حالات میں کافرانہ تسلط کے خلاف جہاد بالسیفبھی فرض ہو جاتا ہے۔
بلکہ اگر کوئی نام نہاد مسلم حکمران اسلام کے نام پر کافرانہ نظام کو مسلط کرنے کی کوشش کرے اور اسلامی تعلیمات پر آزادانہ عمل پیرا ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کرے تو ایسے حکمران کے خلاف جہاد کی پیش آمدہ کسی مناسب صورت کی بھی اسلام تجویز پیش کرتاہے جس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔لہٰذا جب اسلام ایسی نام نہاد مسلم حکومت کی بھی جہاد کے ذریعے اصلاح پر زور دیتا ہے تو پھر خالصتاً کافرانہ حکومتوں کے تحت ابدا لاباد راضی و مطیع بن کر رہنے اور اس نظام و حکومت کے خلاف جدوجہد سے ہاتھ کھینچنے کو کیسے پسند کرسکتا ہے؟
جو لوگ حکمرانوں کے خلاف ہر قسم کے خروج کی نفی پر مصر ہیں ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پیش نظر رکھنا چاہیے :
’’ما من نبی بعثہ اللہ فی أمۃ قبلی إلا کان لہ من أمتہ حواریون وأصحاب یأخذون بسنتہ ویقتدون بأمرہ، ثم إنھا تخلف من بعدھم خلوف یقولون مالا یفعلون ویفعلون ما لا یؤمرون، فمن جاھدھم بیدہ فھومؤمن ومن جاھدھم بلسانہ فھو مؤمن ومن جاھدھم بقلبہ فھو مؤمن و لیس وراء ذلک من الایمان حبۃ خردل‘‘
(مسلم، کتاب الایمان: رقم۵۰)
’’مجھ سے پہلے ہر امت میں اللہ تعالیٰ نے جب کسی نبی کو مبعوث کیا تو اس کی امت میں سے اس کے مخلص ساتھی بھی ہوا کرتے تھے جو اس نبی کے طریقے اور حکم کی اقتدا واتباع کرتے، پھر ان کے بعد ایسے (ناخلف) جانشین ہوں گے، جو ایسی باتیں کریں گے جو وہ عملاً کرنے والے نہیں اور وہ ایسے کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا۔ لہٰذا جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کرے گا وہ مؤمن ہے او رجو ان کے ساتھ اپنی زبان سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے او رجو ان کے ساتھ اپنے دل سے جہاد کرے گا ، وہ بھی مؤمن ہے۔ اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔‘‘ (یعنی جو دل سے بھی انہیں برا نہیں سمجھتے ، ان کے دلوں میں رائی برابر ایمان نہیں جیسے آج کل کے ظالم حکمرانوں کے کاسہ لیس بے ضمیر خوشامدی ہیں )
حدیث ِبالا کی رو سے غیر مسلم معاشروں میں خروج کے مسئلہ میں ہمیں معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ (محدث)