کتاب: محدث شمارہ 261 - صفحہ 62
جدید عقل و دانش کے نزدیک عقیدہ ومذہب کے فروغ اور غلبہ کے لئے ہتھیار اُٹھانا تہذیب و تمدن کے تقاضوں کے خلاف ہے اور ایسا کرنا بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے۔[1]
جہاد ہر دور میں تھا اور ہمیشہ جاری رہے گا
اس سلسلے میں آگے بڑھنے سے قبل ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ عقیدہ و مذہب کے لئے ہتھیار اٹھانے اور باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لئے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آرہا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اُسلوب کا اضافہ کرنے کی بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے چنانچہ جس طرح قرآنِ کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے، اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے مذہب کے دفاع اور اپنی آزادی اور تشخص کے تحفظ کے لئے لڑیں ۔ مثال کے طور پر قرآنِ کریم نے فلسطین کی سرزمین پر لڑی جانے والی ایک مقدس جنگ کا سورة البقرة میں تذکرہ کیا ہے جو جالوت جیسے ظالم حکمران کے خلاف طالوت کی قیادت میں لڑی گئی اور اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں جالوت بادشاہ کا معجزانہ طور پر خاتمہ ہوا۔ اس جنگ کا تذکرہ بائبل میں بھی موجود ہے اور اس میں حضرت طالوت کو ’ساؤل‘ بادشاہ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس لئے اگر آج کی جدید دانش کو مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے پر اعتراض ہے تو اس کا ہدف
[1] جہادکے مقصد کی مذکورہ تعبیر اسلام میں جہاد کی ضرورت کی حد تک تو درست ہے لیکن اگر اس عبارت سے کوئی عسکریت پسند یہ کشید کرے کہ اسلام ایک عسکری دین (Militant Religion) ہے تو یہ تعبیر غلط ہوگی۔ ا سلام امن و امان کا علمبردار مذہب ہے اور اپنی تعلیمات کی روشنی میں فرد و معاشرہ کی سلامتی کا ضامن بھی، اسی لئے جنگ ِقادسیہ کے فاتح حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نمائندہ رِبعی رحمۃ اللہ علیہ بن عامر کا رستم کے دربار میں یہ قول سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے :
’’واللہ جاء بنا لنخرج العباد من عبادۃ العباد إلی عبادۃ اللہ‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ ہمیں (تمہارے خلاف اس لئے چڑھا) لایا ہے کہ ہم تمام بندگانِ خدا کو بندوں کی غلامی سے نکال کر خدائے واحد کی غلامی میں لے جائیں ۔‘‘ (تاریخ طبری، تاریخ ابن کثیر وغیرہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمرو بن العاص کے بیٹے کی طرف سے زیادتی پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ فرمانا: ولدتہم أمہاتہم أحرارا… ’’ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنم دیا تھا ، تم نے کب سے انہیں غلام بنا لیا۔‘‘ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بلاوجہ کسی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ اسلامی حکومتوں کے اندر تمام ذمی اور مستامن کفار غلام نہیں ہوتے۔
اس سے ثابت ہوا کہ اسلام کا مقصد اِن معنوں میں جہانبانی اور جہانگیری نہیں ہے کہ لوگوں کو جبراً اسلام میں داخل کیا جائے بلکہ جنگ کا مقصد بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالنا ہے۔ جہاں تک اللہ کی بندگی میں لانے کا مسئلہ ہے اس کے بارے میں اسلام دعوت و تبلیغ کا طریق کاراختیار کرتا ہے…
اس مسئلہ کو یوں بھی واضح کیا جاسکتا ہے کہ اسلام عقیدہ ومذہب کے بارے میں دنیاوی زندگی کی حد تک کافر کو بھی اسی طرح آزادی دیتا ہے جس طرح ایک شخص کو اسلام میں آنے اور مسلمان رہنے کی پوری آزادی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسلام تشدد اور دھمکی سے مسلمان بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسلام کی غلط تعبیر ہے جوسوءِ فہمی کا نتیجہ ہے !! (محدث)