کتاب: محدث شمارہ 26 - صفحہ 15
قرار دیا جائے۔ (۱۰) جو قومی نمائندہ، وزیر، در یا سرکاری حکام، کسی کو نجی رقابت اور ذاتیات کی بنا پر ناحق نقصان پہنچانے کی کوشش کریں اور عدالت عالیہ میں اُن کا یہ عناد ثابت ہو جائے تو اُس کو اپنے منصب کے لحاظ سے نا اہل قرار دیا جائے۔ (۱۱) بعض سرکاری حکام اور حکومت کے بعض پہلوؤں کو عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر رکھنا، عدلیہ کے مقام و مرتبۂ آزادی اور حقوق کے منافی ہے۔ یہ حربہ غیر اسلامی بھی ہے اور غیر جمہوری بھی۔ (۵) مولانا ہزاروی قابلِ رحم ہیں: مولانا غلام غوث ہزاروی نے مولانا مفتی محمود پر زور دیا ہے کہ: یا تو وہ متحدہ جمہوری محاذ سے الگ ہو جائیں یا محاذ کے تمام عہدوں سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو ہٹا دیں۔ نیز کہا کہ محاذ کے تمام عہدے ایسے لوگوں کو دیئے گئے ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، انہوں نے اس صورت حال پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے جماعت اسلامی اور اس کے راہنماؤں کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید کہا کہ اگر محاذ نے جماعت اسلامی کی شرکت پر اصرار جاری رکھا تو میں محاذ سے تعاون نہیں کروں گا۔ نئے انتخابات میں متحدہ محاذ کے جس اُمیدوار کا تعلق جماعت اسلامی سے ہو گا میں اس کی مخالفت کروں گا۔ اور خیال رکھوں گا کہ جماعت اسلامی کا کوئی اُمیدوار کامیاب نہ ہونے پائے۔‘‘ (وفاق۔ مختصراً) اللہ مغفرت کرے، علامہ اقبال رحمہ اللہ پر، کیا خوب کہہ گئے ہیں: گلۂ جفائے وفانما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے کسی بُت کدے میں بیان کروں تو کہے صنم بھی ’ہری ہری‘ نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی‘ نہ حریفِ پنجہ فگن نئے وہی فطرت اسد اللٰہی وہی مرحبہی وہی عنترمی مولانا ہزارومی اب عمر کی ایسی سٹیج پر پہنچ گئے ہیں، جہاں پہنچ کر عموماً لوگ اِسی طرح کی ہانکا کرتے ہیں۔ اس لئے سنجیدہ حضرات سے ہم یہ اپیل کریں گے کہ وہ اُن کی ایسی باتوں کا برا نہ مانا کریں۔ پسِ پردہ اگر ڈور