کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 72
ب․ قرآن پاک ناظرہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن پاک کا ترجمہ جانتے ہوں ۔ بی اے تک ان کی تعلیم کا اقدام خوش آئند ہے، لیکن شنیدہے کہ اس میں بھی تبدیلی کے لئے حکومت نے سمجھوتہ کرلیا ہے ، اس معیار کو کم کرنے سے وطن میں تعلیم یافتہ اور باشعور سیاست کے رجحان میں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس سے کم تعلیمی قابلیت کے حامل اراکین قانون سازی میں موٴثر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو اس پر سٹینڈ لینے کی ضرورت ہے۔ ج․ ان کے لئے اپنے اپنے حلقہ میں کم از کم چارپرائمری سکول اور دو ہائی سکول (ایک لڑکوں کے لئے ، ایک لڑکیوں کے لئے) قائم کرنا لازم قرار دیا جائے۔ ۵۔اساتذہ کی تقرری میں ان کے تعلیمی کوائف و قابلیت کے ساتھ ساتھ ان کے کردار اور نظریاتی وابستگی کوبھی ملحوظ رکھا جائے۔ اگر کوئی استاد کسی بھی وقت دین کے خلاف ہرزہ سرائی کرے یا حب الوطنی کے منافی کوئی بات کہے یا کسی سرگرمی میں حصہ لیتا ہوا پایا جائے، تو اسے معطل کرد یا جائے۔ باقی رہے مالی معاملات، تو جب اصحابِ خیر حکومت کو تعلیم کے معاملے میں مخلص پائیں گے تو پھر اس کارِخیر میں حصہ ڈالنا وہ اپنے لئے باعث ِفخر خیال کریں گے۔ وما علينا الا البلاغ