کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 63
مسلمانوں کو اس طرزِ تعلیم سے روشناس کرانے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام صرف مسجد کے حجروں اور خانقاہوں میں مقید رہے اور مسلمانوں کی عام زندگی مغرب کے کافرانہ اصولوں پر چلتی رہے اوراجتماعی زندگی میں اسلام کوئی فیصلہ کن قوت نہ بن سکے۔ تعلیم پر دولت مندوں کی اجارہ داری اس نظام تعلیم کی بنیادی خرابی یہ بھی ہے کہ یہ نظام، تعلیم پر چند دولت مندوں کی اجارہ داری قائم کرکے ملک کی ۹۰%آبادی کو علم سے محروم رکھتی ہے۔ تعلیم کے گراں قدر اخراجات ہیں ۔ مہنگی فیسیں اورمہنگی کتب،اور عام آدمی کے لئے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ تعلیم تو قدرت کی وہ نعمت ہے جس تک ہر مسلمان کی رسائی ضروری ہونی چاہئے۔ کیونکہ طلب ِعلم کا فریضہ ہر مسلمان مرد و زَن پر واجب ہے۔ ہمارے بہت سے ذہین بچے محض دولت نہ ہونے کی بنا پر اقبال، اکبر، حالی، شبلی، نیوٹن، آئن سٹائن بنے بغیر خاک میں مل جاتے ہیں ۔ ایسے مفلس اور تنگ دست لوگوں کی ذہنی قوتوں کو نشوونما دینے اور انہیں انسانیت کی خدمت میں استعمال کرنے کے لئے تعلیم کو مفت قرار دینا انتہائی ضروری ہے۔ ذریعہ تعلیم، انگریزی ۱۔محض اس لئے رکھا گیا کہ ایک غیر ملکی زبان کو بہت کم لوگ سمجھ سکیں گے۔ اس طرح ان کی شرحِ تعلیم کم رہے گی۔ لہٰذا ہمارے ماتحت رہیں گے اورمرعوب رہیں گے۔ ۲۔زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے پورے لاؤلشکر یعنی تہذیب وثقافت سمیت آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انگریزی خواں حضرات مغربی تہذیب اور مغربی طور اطوار پر دل و جان سے فریفتہ ہیں ۔ یہ لوگ وہی بے راہروی، فحاشی اور عریانی یہاں بھی پھیلانا چاہتے ہیں ۔ ۳۔ان کے مرتب کردہ نصابات اور درسی کتب، انگریزی زبان میں تھیں اورجملہ علوم بھی انگریزی زبان میں ، نتیجہ یہ ہوا کہ علم اورانگریزی کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا اور عربی و فارسی اور اردو کی تعلیم کو پسماندگی اور دورِ قدیم کی یادگار قرار دے دیا گیا۔ اس سے مسلمانوں کا اپنے شاندار ماضی، آباؤ اجداد کے گراں قدر علمی ورثہ سے رشتہ ختم ہوگیا۔ تعلیم یافتہ طبقہ اس حد تک مرعوب ہوا کہ ہر وہ چیز جو مغرب سے آئے، وہ ترقی کا لازمہ سمجھی جائے اورہر دیسی و وطنی چیز ناقابل اعتبار بلکہ راندہٴ درگاہ ٹھہری۔ المیہ در المیہ یہ کہ خود یورپ نے ترقی انہی اسلامی علوم و فنون کے بل پر کی تھی اور مسلمان مفکرین ودانشوروں کی گراں قدر کتب سے خوب استفادہ کیا تھا جبکہ خود مسلمانوں کا رشتہ انگریزی زبان کے ذریعے انہوں نے اس شاندار علمی ورثہ سے کاٹ دیا اور ان اسلامی کتب کو اپنے کتب خانوں کی زینت بنا دیا۔ تاکہ نہ مسلمانوں کے پاس یہ کتابیں رہیں ، نہ وہ ان سے استفادہ کرسکیں۔ بقولِ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں ، تو دل ہوتا ہے سی پارہ