کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 60
اسلامی تعلیم ۱۔اس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور علم حقیقی کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات ہے۔ ۲۔ اسلامی تعلیم آفاقی ہے۔ ۳۔اسلا م میں حصولِ تعلیم ایک عبادت ہے۔ ۴۔اس کا واضح نصب العین ہے۔ یعنی رضاے الٰہی کا حصول، اپنے دین کے مسائل و احکام سے واقفیت، اللہ پرایمان مضبوط ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ بیدار ہو اور آخرت کی جواب دہی کا شعور قوی تر و مضبوط ہو۔۵۔ا س سے روحانی اور مادّی دونوں آسودگیاں حاصل ہوتی ہیں ، لہٰذا یہ تعلیم جامع اور مکمل ہے۔ ۶۔یہ اخلاق و کردار کی تعمیر اور بہترین سیرت کی تشکیل کرتی ہے۔ ۷۔یہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی سکھاتی ہے، بلکہ اپنے نفس اور پھر جانوروں تک کے حقوق ادا کرنا سکھاتی ہے۔ اس طرح اپنے فرائض کی ادائیگی اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا شعور قوی تر کردیتی ہے۔ ۸۔انفرادی اور اجتماعی زندگی میں توازن اور اعتدال کا عنصر پایا جاتا ہے۔ ۹۔ہر کام میں جزا وسزا اور آخرت کی جوابدہی کا عنصر انسان کو گناہ اور جرم کرنے سے روکتا ہے۔ ۱۰۔یہ سیرت و کردار میں پختگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ امانت داری، صبر، محبت اور خدمت ِخلق جیسے بہترین اوصاف اُبھارتی ہے۔ ۱۱۔یہ مساوات اور اُخوت اور بنی نوع انسان کی رضاے الٰہی کی خاطر خدمت کرنا سکھاتی ہے۔ لادینی (یا لبرل) تعلیم ۱۔ یونان سے شروع ہوئی۔ رومیوں سے ہوتے ہوئے مغرب تک پہنچی۔ اس میں حواسِ خمسہ اور مشاہدہ تعلیم کی بنیاد بنتے ہیں ۔ ۲۔ہر قوم کے مخصوص نظریات کے گرد گھومتی ہے۔ ۳۔مغربی تعلیم صرف روزگار کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ ۴۔اس کا مقصد صرف مادّی فوائد کا حصول ہے۔ ملازمت ملے۔ سرمایہ زیادہ سے زیادہ بڑھے۔جانوروں کی طرح بے مقصد اوربے کار زندگی گزرتی ہے۔ جس کا مقصد ’صرف کھاؤ پیو اور عیش کرو۔‘‘ ۵۔یہ تعلیم دینی عقائد اور آخرت کو تسلیم نہیں کرتی۔ زندگی کے معاشی ومادّی فوائد کے لئے کوشاں رہتی ہے۔اس لئے خود غرضی، نفسا نفسی اور مفاد پرستی سکھاتی ہے۔ ۶۔اس میں صرف معلومات ہوتی ہیں جن کا کردار سازی اور تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ۷۔ یہ تعلیم چونکہ آخرت کی جزا وسزا کے تصور سے عاری ہے لہٰذا صرف اپنا اور اپنی قوم کا مفاد حاصل کرنا سکھاتی ہے۔ اس کا مقصد ِتعلیم ’برائے حصولِ معاش‘ اور ’برائے عظمت ِوطن‘ہے مادرِ وطن کی خدمت کرنا ان کا بڑا بلند نصب العین ہے۔ ۸۔یہاں اجتماعیت اور انفرادیت دونوں میں انتہا ہے، کہیں افراط ہے ، کہیں تفریط، اعتدال کہیں نہیں ۔ ۹۔ یہ مذہب کو پرائیویٹ معاملہ سمجھتی ہے اور کفارہ کے مسئلہ پر ایمان رکھنے والاگناہ اور جرم کرنے میں بیباک ہوجاتا ہے۔ ۱۰۔چونکہ اس کا نصب العین صرف مادی فوائد کا حصول ہے۔ لہٰذا ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے روپیہ کمانا یا اکٹھا کرنا ضروری ہے، رشوت، کرپشن، لوٹ مار، ناجائز استحصال ڈاکہ زنی، تشدد سکھاتی ہے اس لئے جرائم میں اضافہ کا باعث ہے۔ ۱۱۔پھر خصوصاً یہ خوشامد سکھاتی ہے۔ اپنے باس کے سامنے انتہائی چاپلوسی اور عاجزی مگر اپنے سے نیچے والوں کے لئے ظالمانہ فرعونی انداز اختیار کرنا سکھاتی ہے۔