کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 58
وقتاً فوقتاً اصلاحِ احوال کے لئے اس میں اسلامیات کے ایک آدھ جزوی پیریڈ کی، کبھی ناظرہ قرآن کی اور کبھی برائے نام ترجمہ قرآن کی پیوند کاریاں ہوتی رہتی ہیں ۔ مگر ’دِلی ہنوز دور است‘ والا معاملہ رہتا ہے۔ ہمارا اصل تعلیمی مسئلہ اس کے کسی ایک جز کی اصلاح نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم کی اصلاح ہے۔ اس کے مقاصد، اس کا نصاب، اس کا ماحول، اس کا طریق تدریس،اس کی روح غرض ہر چیز تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات اس وقت تک پوری ہو نہیں سکتیں جب تک اس پورے نظام کو ازسر نو اسلامی بنیادوں پر استوار نہ کیا جائے، ہمیں اس مغربی تعلیمی نظام کو مٹانا ہے اور اس کی جگہ بالکل نیا نظام قائم کرنا ہے۔ جب تک پہلے اس کی تخریب اور ملی و قومی ضروریات کے مطابق تعمیر کا عمل بروئے کار نہیں لایا جاتا، ہمارے اسلامی مقاصد اور ضروریات ملکی کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ مغربی علوم کے ساتھ اسلامیات یا دینیات کی پیوندکاری کو مضر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : ”ایک طرف آپ ایک طالب علم کو تمام دنیوی علوم اس طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ بے خدا ہے اور خدا کے بغیر چل رہا ہے اور خوب کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ جو علم بھی وہ پڑھتا ہے، اس میں اسے کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتاکہ اس کارخانہ دنیا میں یا کارخانہ زندگی میں کہیں خدا کا کوئی مقام ہے، کہیں رسول کامقام ہے، کہیں وحی کی حاجت ہے! سارے کے سارے نظامِ زندگی کو وہ اسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہے!! اس کے بعد یکایک آپ اسے دینیات کی کلاس میں لے جاکر اس کو بتاتے ہیں کہ خدا بھی ہے، رسول بھی ہے، وحی بھی آتی ہے اور کتابیں بھی آتی ہیں ۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ دنیا کے مجموعی تصور سے الگ اور بالکل بے تعلق کرکے یہ اطلاق جو آپ اس کو دے رہے ہیں ، اس کو اس مجموعے میں آخر کہاں نصب کرے گا؟ کس طرح آپ کو طالب علم سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ کائنات اور زندگی کے بے خدا تصور کے ساتھ، دینیات کی یہ پوٹلی جو آپ الگ سے اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں ، اسے وہ کھول کر روز کے روز اپنے دوسرے اجزاے علم کے ساتھ ترکیب دیتا رہے گا اور خود بخود اپنے ذہن میں ایک باخدا تصور مرتب کرتا رہے گا؟“ پھر اس نظامِ تعلیم کے بارے میں خود قائداعظم نے یہ بات کہی تھی کہ ”ہمارے نظامِ تعلیم میں عرفانِ خدا کا تصور نہیں ، منزلِ مقصود متعین نہیں اور معنوی بصیرت کا سرے سے فقدان ہے۔“ (ہمارا نظامِ تعلیم از پروفیسر سعید اختر: صفحہ ۱۱۴،۱۱۵)