کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 51
تعلیمی پالیسی کسی بھی تعلیمی ادارے کا ماحول طلبہ کی تعلیم وتربیت میں انتہائی اہم رول اداکرتا ہے لیکن یہ ماحول کوئی مجرد چیز نہیں بلکہ یہ اساتذہ اورطلبہ کے باہمی تعامل سے پید ا ہوتا ہے۔ یہ اس چیز کا مظہر ہوتا ہے کہ تعلیمی ادارہ چلانے والے تعلیم وتربیت کے کیا تصورات رکھتے ہیں اور وہ کس قسم کا طالب علم پیدا کرنا چاہتے ہیں ؟ سکول انتظامیہ اور اساتذہ جس قسم کا کلچر پروان چڑھانا چاہیں گے، اسی قسم کاماحول تعلیمی ادارے میں پروان چڑھے گا۔ مثلاً اس وقت دینی مدارس میں ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ طلبہ جدید علوم نہ پڑھیں اورصرف اپنے مسلک کی حمایت سے متعلق مواد کا مطالعہ کریں ۔ مدارس میں بالعموم کھیل کود کا انتظام نہیں ہوتا۔ بعض جگہ طلبہ کو چندہ جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتااور بہت سے دیہات وقصبات میں ابھی تک طلبہ کا کھانا لوگوں کے گھروں سے آتا ہے یا وہ وہاں جا کر کھاتے ہیں ۔ یا گھر گھر سے مانگ کر لاتے ہیں ۔ ظاہر ہے ان سب باتوں سے دینی مدارس میں ایک خاص قسم کا کلچر پروان چڑھتا ہے ۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ دینی مدارس کا موجودہ ماحول تبدیل ہونا چاہیے اورجو تجاویز ہم نے سطورِ بالا میں پیش کی ہیں ، اگر ان پر عمل کیا جائے توان شا ء اللہ ان تعلیمی اداروں کا ماحول خود بخود تبدیل ہو جائیگا۔ تعلیمی ادارے کے ماحول پر جو چیز اثر انداز ہوتی ہے، ان میں اساتذہ او رنصاب کے علاوہ غیر نصابی بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں کابھی بہت ہاتھ ہوتا ہے ۔ ان سرگرمیوں کو ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں : ایک خالص دینی تربیت کی سرگرمیاں اور دوسری وہ سرگرمیاں جن میں طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پید ا ہوتا ہے اوران کی شخصیت میں تعمیری رجحانات پروان چڑھتے ہیں ۔ اوّل الذکر میں جھوٹ نہ بولنا،گالی نہ دینا، نماز باقاعدگی سے پڑھنا وغیرہ شامل ہے۔ جب کہ دوسری قسم کی سرگرمیوں میں تقریر وتحریر کی صلاحیت پروان چڑھانا ،کھیلوں میں حصہ لینا ،عملی سرگرمیوں میں شریک ہونا(جیسے تقریبات کا انتظام کرنے میں حصہ لینا،باغبانی کرنا ،کلاس روم کی آرائش کرنا وغیرہ)… ضروری ہے کہ دینی مدارس میں ہم نصابی سرگرمیوں کو منظم کیاجائے تا کہ طلبہ میں مذکورہ دونوں قسم کی صلاحیتیں پروان چڑھیں ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ بحیثیت ِمجموعی اس وقت دینی مدارس کا ماحول تبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے تا کہ طلبہ ایک نئے کلچر میں پروان چڑھ سکیں۔ اس نئے کلچر کے خدوخال کیا ہونے چاہئیں ؟ اس پر نئے سرے سے کچھ لکھنے کی بجائے ہم یہ کہنے پر کفایت کریں گے کہ سطور ِبالا میں ہم نے دینی مدارس کے نظام میں جن تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے، اگر ان پر عمل درآمد کیا جائے توموجودہ ماحول کی بندھنیں خود بخود ڈھیلی ہونا شروع ہو جائیں گی اورماحول میں کشادگی ،وسعت اور رواداری کے دریچے وَا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ