کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 45
”اپنے بچوں کوتیراکی،شہسواری،مشہور ضرب الامثال اور اچھے اشعار سکھاؤ۔“ [1] حضرت عمر بن عبد العزیز (م ۵۸ھ) نے حدیث اور مغازی کے درس کا حکم دیا۔[2] دوسری صدی میں موطأ کی تالیف سے تدوین حدیث کا کام شروع ہوا تو درسِ حدیث نے محکم صورت اختیار کر لی۔ اسی طرح جب فقہ کی تدوین شروع ہوئی تو مساجد ومدارس میں اس کی تحصیل بھی شروع ہو گئی۔ چوتھی صدی ہجری میں تصوف بطور ایک ادارہ کے اُبھرا اور اس پرکتابیں لکھی جانے لگیں تو وہ کتب بھی نصاب کا حصہ بن گئیں ۔ قرآن وحدیث، ان سے متفرع علوم اور فقہ تو خالص دینی علوم اور عربی زبان واَدب اورتاریخ وجغرافیہ ،مسلمانوں کی اپنی داخلی فکری حرکت کا نتیجہ تھے لیکن جلدہی مسلمانوں نے یونانی اثرات کے تحت سماجی علوم میں منطق،فلسفہ ،علم النفس ، علم الکلام اور زبانوں میں یونانی ،عبرانی، ترکی ،فارسی ،وغیرہ پڑھنی پڑھانی شروع کردیں ۔ اسی طرح سائنسی علوم میں طب(میڈیکل)، ہندسہ(انجینئرنگ)، ریاضی، ہیئت وفلکیات (اسٹرانومی)، اورکیمیا(کیمسٹری) وغیرہ مسلمان معاشرے میں علم پڑھنے پڑھائے جانے لگے۔ یہ علوم دینی مدارس اور مساجد میں پڑھائے جاتے تھے اوردینی ودنیوی علوم یا خالص دینی اورعصری علوم میں کوئی فرق وامتیاز نہ برتا جاتا تھا۔ [3] دور کیوں جائیے …خودمسلم ہندوستان کی نصابی تاریخ پر ایک نظرڈال لیجئے توآپ دیکھیں گے کہ خالص دینی علوم کے ساتھ وہاں معاون علوم کے طو ر پر دیگر سماجی وسائنسی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے اوران کی ترجیحات میں بھی ردّوبدل ہوتا رہتا تھا مثلاً چودھویں سے سو لہویں عیسوی کے وسط تک دینی مدارس میں تفسیر ،حدیث،فقہ ،اُصول ،کلام ،تصوف کے ساتھ ساتھ صرف ، نحو ،معانی اور منطق بھی پڑھائی جاتی تھی۔ اس زمانے میں زور فقہ ،اصولِ فقہ پر تھا او ر تدریس حدیث کی ا ہمیت قدرے کم تھی۔ [4] سولہویں صدی کے وسط میں او ر سکندر لودھی کے زمانے میں مولانا عبد اللہ اور عزیز اللہ نے فقہ اوراُصول کی کمیت کم کر کے منطق وفلسفے کی کتب میں اضافہ کر دیا۔ اسی طرح علامہ تفتازانی کے شاگردوں نے علم بلاغت اور کلام میں نئی کتب مروّج کرائیں ،لیکن شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی اولاد کوشش کے باوجود فن حدیث کو رائج نہ کراسکی۔ اس کے بعد دورِ اکبری میں شاہ فتح اللہ شیرازی ہندوستان آئے تو انہوں نے نصاب میں مزید تبدیلیاں کیں ۔ ان کے مرتب کردہ نصاب کی جو تفصیل شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دی ہے، ا س میں تفسیر ،حدیث، فقہ واُصولِ فقہ، تصوف اور کلام کے علاوہ نحو،منطق،بلاغت،فلسفہ،ہیئت ،حساب اورطب بھی شامل ہیں ۔ [1] جاحظ ،البیان والتبیین ج ۲ ص ۹۲ [2] ابن حجر عسقلانی ، تہذیب التہذیب: ج ۵ ص ۵۳ [3] مسلمانوں کے قدیم نظام ونصاب تعلیم کے لیے دیکھئے: ۱) ڈاکٹر احمد شلبی ،تاریخ تعلیم وتربیت اسلامیہ ،ادارۂ ثقافت ِاسلامیہ ، لاہور ۱۹۹۶ء ۲) محمد رشید رضا ،تاریخ الاستاذ الامام شیخ محمد عبدہ ،قاہرہ ،طبع دوم ۱۳۴۴ھ ۳) ڈاکٹر رشید احمد جالندھری ،برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کا قدیم نصابِ تعلیم در سہ ماہی ’المعارف‘ لاہور جولائی، ستمبر ۱۹۹۷ء [4] ضیا ء الدین برنی ،تاریخ فیروز شاہی بذیل علاء الدین خلجی