کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 42
نہیں ہے بلکہ تحقیق سے مراد تلاشِ حق ہونا چاہیے او راس کے لیے پہلاز ینہ معروضیت اورغیر جانبداری کا ہے کہ کھلے دل ودماغ کے ساتھ علم کا دامن تھاما جائی۔ اس کے لیے مناسب ہوگا کہ شروع میں ایسے تحقیقی مقالات لکھوائے جائیں جن میں مقارنہ(تقابلی مطالعہ) کا اہتمام ہو، تاکہ اختلافی معاملات میں دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے او روزن دینے کا رجحان پیدا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اس وقت جتنی تحقیق ہو رہی ہے، مسلم دنیا کا اس میں حصہ دس فیصد سے بھی کم ہے ۔ مغرب صرف تحقیق کے بل پر تسخیر کائنات (سائنس اورٹیکنالوجی ) میں ہم سے آگے نکل گیا ہے ۔ ہم بحیثیت ِاُمت جب تحقیق میں آگے تھے تو ا س دنیا پر ہمارا سکہ چلتاتھا۔ آج ہم تحقیق میں پیچھے رہ گئے ہیں تو ہر لحاظ سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔ خود اسلامی علوم میں تحقیق کے سلسلے میں مغرب میں جو کام ہوا ہے اورہورہا ہے، ہمارے علما اگر انگریزی پڑھیں تو انہیں احساس ہو کہ ہمارے دامن میں شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۳۔روزگار اس وقت ہمارے دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ روزگار ہے اوروہ ہے اپنے مسلک کے مدارس ومساجد میں ملازمت ۔ظاہر ہے یہ مواقع محدود ہوتے ہیں ۔ اس لیے سب لوگ اس میں نہیں کھپ سکتے ہیں ۔یہ چیز نہ صرف بے روزگاری کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس سے بعض دیگر مفاسد بھی پید ا ہو رہے ہیں ۔مثلاً دوسری مسالک کی مساجد پر قبضہ جو بعض اوقات نقض امن پر منتج ہوتا ہے یا بغیر ضرورت کے محض روزگار کے لیے نئی مساجد اور مدارس کا قیام(حقیقت یہ ہے کہ اس امر پر ایک تحقیقی سروے کی شدید ضرورت ہے کہ ہماری آبادی کو اس وقت کتنے مدارس ومساجد کی ضرورت ہے ۔ ان مدارس سے کتنے طلبہ سالانہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور ان کا ذ ریعہ روزگار کیا ہے؟ …وغیرہ) ر وزگار کے مواقع پید ا کرنا یا ان کی پلاننگ کرنا بنیادی طور پر ہماری حکومت کا کام ہے لیکن اگر حکومت کی مدد کے بغیر دینی مدارس کا اتنا بڑا نیٹ ورک چل رہا ہے تو انہیں اپنے طلبہ کے روزگار کے مسئلے پر حکومتی مدد کے علیٰ الرغم بھی غور کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہمار ا مشاہدہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے منتظمین اپنے طلبہ کو جدید تعلیم او رپیشہ وارانہ تعلیم نہ دینے کے حق میں اس لیے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ طلبہ مجبور ہو کر مساجد ومدارس کو آباد رکھیں گے ورنہ وہ کہیں اور ملازمت کرلیں گے جہاں انہیں زیادہ تنخواہ ملے گی اور مساجد ومدارس ویران ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ خدشہ بے جا ہے کیونکہ اس وقت جتنے طلبہ ان مدارس سے فارغ ہو رہے ہیں ،