کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 37
لیب) قائم ہو نی چاہیے ، سمعی وبصری آلات اورکمپیوٹر کو استعمال کرنا چاہئے۔ تینوں زبانوں کی الگ الگ بزمِ ادب ہواورتحریری و تقریری مقابلے، مباحثے ومذاکرے اورہونہار طلبہ کے لیے انعامات ان کے مستقل پروگراموں کا حصہ ہوں تا کہ اِن مہارتوں کی تکمیل ہو سکے ۔ رابعاً… نصابی وحدت جدید وقدیم کی یکجائی کا مطلب بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صبح کے اوقات میں درسِ نظامی پڑھا دیا جائے اورشام میں کسی ریٹائرڈ یا پارٹ ٹائم لیکچرر سے ایک دو جدید مضامین میں لیکچر دِلوا دئیے جائیں ۔ یہ محض اَشک شوئی (ہے کیونکہ اس کا طالب علم کی شخصیت ،اس کے فکری ڈھانچے اوراس کے طرزِ زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ہی وہ سنجیدگی سے جدیدعلوم سے استفادہ کرپاتا ہے ۔ اس مسئلے کا صحیح حل یہ ہے کہ نصابی وحدت کو پیش نظر رکھا جائے یعنی نصاب ایک ہی ہو اوراس نصاب کے اندر موزوں مرحلے پر موزوں کیفیت اور کمیت کے حامل جدید مضامین بھی اسلا می تناظر میں شامل کئے جائیں ۔ نصابی وحدت کے موٴثر اور خوشگوار اثرات ان شاء اللہ طالب علم کی شخصیت پر پڑیں گے۔ خامساً…مراحل مدت ِتعلیم یہ ایک دقیق مسئلہ ہے ۔ امریکہ ،یورپ اورعرب ممالک میں ثانوی تعلیم ۱۲ سال کی ہوتی ہے۔ خود ہمارے ہاں بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد میں داخلے کا معیا را یف اے ہے اور پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیاں بھی (مثلاً میڈیکل اور انجینئرنگ وغیرہ) ایف ایس سی پاس طلبہ کو داخلہ دیتی ہیں اور پھر کم سے کم چار سال میں گریجویشن کرواتی ہیں اور مزید دو سال میں ایم اے یعنی کل ۱۸ سال میں ایم اے [1] دینی مدارس میں الہامی علوم کے ساتھ عصری معلومات کا امتزاجی تصور اہم ہونے کے باوجو تدریسی اعتبار سے اسے ایک ہی وقت میں رکھنے کے تجربات عملاً بڑے ناکام ثابت ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ مقاصد کے علاوہ دو مختلف طریق ہائے تدریس کا بُعد ہے کیونکہ ہمارے ہاں مروّج دنیاوی تعلیم میں طلبہ کا عمومی رجحان صرف امتحان پاس کرنے کا ہوتا ہے لہٰذا اُنہیں علم وفن یا نفس کتاب کے فہم سے تعلق برائے نام ہی رہتا ہے اور امتحان میں مطلوب پاس نمبر ۳۳ فیصد بھی رہی سہی کسر نکال دیتے ہیں جب کہ دینی مدارس میں کتاب کے مضامین سمیت فہم کتا ب کا بڑا اہتمام ہوتا ہے ۔ اس وقت طریقہ ہائے تدریس میں فہم کتاب اورمضامین علم وفن کے تقابل سے قطع نظر صرف یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ کسی مثالی امتزاجی تصور کی طرف بڑھنے کے لیے عبوری مراحل کے اقدامات ناقص ہونے کے باوجود اہمیت رکھتے ہیں چنانچہ اگر فی الوقت دینی مدارس اقامتی ہونے کی بنا پر جزوی طو ر پر ہی دوسری شفٹ میں دنیاوی علوم کو شامل کر لیں تو ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ بعد ازاں امتزاجی مقاصد کی ہم آہنگی حاصل ہونے پر جب مثالی تدریسی طریق کار وجود میں آجائے تو پھر اسی طرح دینی اور دنیاوی علوم کو اکٹھا پڑھایا جا سکتا ہے جیسے درسِ نظامی کے ابتدائی دور میں دونوں علوم اس میں شامل ہونے کی وجہ سے اکٹھے پڑھائے جاتے تھے… (محدث)