کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 31
تعلیم وتعلّم ڈاکٹر محمد امین ( پاکستان کا دینی نظامِ تعلیم … چند اِصلاحی تجاویز نظامِ تعلیم خواہ کوئی سا بھی ہو،اس کی تشکیل کے وقت اس کے اہداف ومقاصد کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی نظام تعلیم کی کامیابی یا ناکامی کا تجزیہ کرنا ہو تو اس کا معیار یہی ہو سکتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے طے کردہ مقاصد واہداف کے حصول میں کتنا کامیاب یا ناکام رہا ہے ؟ پاکستان میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں جو چھوٹے بڑے ہزاروں دینی مدارس کا م کر رہے ہیں ، ان کے قیام کے مقاصد کیا ہیں ؟ …ان مقاصد کو دو نکات میں شمار کیا جاسکتا ہے:[1] ۱۔ ایسے علما کی تیاری جو دینی علوم میں مہارت رکھتے ہوں اور اعلیٰ شخصی کردار کے حامل ہوں ۔ ۲۔ یہ علما مسلمانانِ پاکستان کی دینی تعلیم کی ضرورت پوری کر سکیں اوران کی دینی تربیت کر سکیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ہمارے دینی مدارس ان اَہداف کے حصول میں کامیاب رہے ہیں ؟ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ نہایت کامیاب رہے ہیں اورپاکستانی معاشرے میں اس وقت جو بھی دینی سرگرمیاں نظر آتی ہیں ، وہ انہی علما کی جدوجہد کا نتیجہ ہیں جو دینی وجاہت سے محرومی برداشت کر کے، رزقِ کفاف پر صبر کر کے معاشرے کو دینی تعلیم سے مالا مال کر رہے ہیں ۔ انہی کے دم سے مسجدیں آباد ہیں جہاں پانچ وقت نمازیں پڑھائی جاتی ہیں ، جمعہ کا خطبہ دیا جاتا ہے ، بچوں کو قرآن پڑھایا جاتا ہے۔دینی تہواروں اورپیدائش، نکاح، تدفین اور ایسے ہی دیگر مواقع پر دینی رسوم واَعمال بجا لائے جاتے ہیں ۔ انہی دینی مدارس میں قرآن حفظ کروایا جاتا ہے، اس کی تجوید پڑھائی جاتی ہے ۔دورۂ حدیث کروایا جاتا ہے اور دوسرے دینی علوم پڑھائے جاتے ہیں وغیرہ …یہ وہ اُمور ہیں جن سے کوئی شخص شاید ہی انکار کر سکے لیکن اس بارے میں ایک دوسرا نقطہ نظر بھی ہے جس کے مطابق : ۱۔یہ مدارس دینی تعلیم مسلک کی بنیاد پر دیتے ہیں جس سے دینی افراد او رجماعتوں کے درمیان نہ صرف خلیج پیدا ہو چکی ہے بلکہ روز بر وز بڑھ رہی ہے ۔ اس نے نہ صرف مسلم عوام اور اُمت کو منقسم کر رکھا ہے بلکہ آپس میں بھی سرپھٹول سے آگے بڑھ کر نوبت قتل وغارت گری تک پہنچ چکی ہے ۔ مدرسوں کے علاوہ مسجدوں پر بھی اہل مسلک کا قبضہ ہے او رمسجدیں اللہ کے گھر بننے کی بجائے مسلکوں کے گڑھ بن چکی ہیں ۔ [1] سینئر ایڈیٹر ’دائرۃ المعارف الاسلامیہ‘ : پنجاب یونیورسٹی، لاہور [2] دیکھئے مثلاً تنظیم المدارس، پاکستان کا مجموعہ نصاب ِتعلیم: پس منظر میں ص ۱ اور رابطة المدارس الإسلامیة پاکستان کا مطبوعہ دستور اور نصا بِ تعلیم : اغراض ومقاصد ص ۱، ۲