کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 26
جائیں گے، حالانکہ دنیوی تعلیم کے یہ ادارے پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں ہر چھوٹی بڑی جگہ پر موجود ہیں اور حکومت ان پر کروڑوں روپیہ خرچ کر رہی ہے۔ بنا بریں دینی مدارس کے نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے خواہ کتنے ہی مخلصانہ جذبات اورخیرخواہانہ محرکات کار فرما ہوں ۔ تاہم یہ جذبات ومحرکات بالغ نظری کی بجائے سطحیت کا شاخسانہ ہیں اور اس سے دینی تعلیم اور دینی ضروریات کاسارا نظام تلپٹ ہو سکتا ہے۔ مدارسِ دینیہ کی انہی خدمات اور حیثیت کے پیش نظر ایک موقعے پر علامہ اقبال نے بھی حکیم احمدشجاع سے فرمایا تھا : ”ان مکتبوں (مدارس) کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدرسوں میں پڑھنے دو، اگر یہ مولوی ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا؟ جو کچھ ہو گا، میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں ۔ اگر ہندوستان کے مسلمان اِن مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح، جس طرح اَندلس (سپین) میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اورقرطبہ کے کھنڈر اور الحمرا اورباب الاخوتین کے نشانات کے سوا اسلام کے پیرؤوں اوراسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آ گرے کے تاج محل اور دِلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اوران کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔“ (کتاب ’خوں بہا ‘ از حکیم احمد شجاع: حصہ اوّل، ص ۴۳۹ ) دینی مدارس میں تعلیمی اصلاح … کیوں اور کیسے؟ مدارسِ دینیہ کے مذکورہ اغراض ومقاصد، ان کے تاریخی پس منظر اورانکی جلیل ُالقدر خدمات کے باوجود، مدارسِ دینیہ عام طو ر پر تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں اور اپنوں اور بیگانوں کی مجلسوں میں اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرے ہوتے رہتے ہیں ۔ بالخصوص ان کا نصابِ تعلیم ہر وقت تختہٴ مشق ستم بنا رہتا ہے، اس مضمون کا عنوان بھی یہی ہے : ”دینی مدارس میں تعلیمی اصلاح،کیوں اور کیسے؟“ جس کا مطلب یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ میں تعلیمی اصلاح یعنی نصاب کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور یہ تبدیلی کیوں ضروری ہے ؟ اور اس ضرورت کو کس انداز سے پورا کیا جائے ؟ گویا اس عنوان کے دو پہلو یا دوحصے ہیں ۔جہاں تک اس کے پہلے حصے کا تعلق ہے تو راقم کی گزارشات کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ مدارسِ دینیہ کے نصاب میں سر ے سے بنیادی تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں اس سے اس کے اصل مقاصد حاصل نہ ہو رہے ہوں ۔ جب دینی مدارس کے قیام کا مقصد انجینئر،سائنس دان یا ڈاکٹر اوروکیل وغیرہ پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ صرف علومِ قرآن وحدیث میں مہارت پید ا کرنا، دین کی تبلیغ ودعوت کی استعداد حاصل کرنا اور مسلمان عوام کی دینی