کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 23
اُنہیں دولت ِ ایمان سے بھی محروم کر دیں ۔ ان غارت گرانِ دین وایمان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان مہ وشوں ، سیمیں تنوں اوررہز نانِ تمکین وہوش کی رنگین اور شہوت انگیز تصویروں سے عوام کے اَخلاق وکردار کس بر ی طرح بگڑ رہے ہیں ، بے حیائی اور بے پردگی کو کس طرح فروغ مل رہا ہے اور فحاشی کا سیلاب کس طرح ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ انہیں صرف اپنی کمائی سے غرض ہے، اس کے علاوہ ہر چیز سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ ان مایوس کن، ایمان شکن اور روح فرسا حالات میں صرف دینی تعلیم وتربیت کے و ہ ادارے اور مراکزہی اُمید کی ایک کرن ہیں ،جنہیں مدارسِ دینیہ اورمراکز ِاسلامیہ کہا جاتا ہے، جہاں محروم طبقات کے بچے یا دینی جذبات سے بہرہ وَر لوگوں کے نوجوان، دین کے علوم حاصل کر کے،مسلمان عوام کی دینی رہنمائی بھی کرتے ہیں اوران کی دینی ضروریات کا سروسامان بھی۔ ان کی وجہ سے ہی تمام مذکورہ شیطانی کوششوں کے باوجود اسلامی عبادات وشعائر کا احترام لوگوں کے دلوں میں ہے۔ اس لحاظ سے یہ دینی مدارس اپنی تمام تر کوتاہیوں ، محرومیوں اور کسمپرسی کے باوجود،جیسے کچھ بھی ہیں ، اسلام کے قلعے اوراس کی پناہ گاہیں ہیں ۔ دینی علوم کے سر چشمے ہیں ، جس سے طالبانِ دین کسب ِفیض کرتے اور تشنگانِ علم سیراب ہوتے ہیں اور یہ مدارس دین کی مشعلیں ہیں جن سے کفروضلالت کی تاریکیوں میں ، ہدایت کی روشنی پھیل رہی ہے اور اس کی کرنیں ایک عالم کو منور کر رہی ہیں !! اِن کی یہ خوبی ہی دشمن کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہی ہے۔ اسلام دُشمن استعماری طاقتیں ، جنہوں نے عالم اسلام کو مذکورہ حسین جالوں میں پھنسا رکھا ہے اور جو اسے اسلام کی باقیات سے بالکل محروم کر دینا چاہتی ہیں ۔ ملکی سیاست سے باہرنکالنا چاہتی ہیں تا کہ انتخابات کے مرحلے میں بھی ’اسلام‘ کا نام لینا جرم بن جائے۔ مسلمان سر براہوں کی اس کانفرنس میں جو گذشتہ برسوں کاسا بلانکا میں ہوئی، وہ اس قسم کی ایک قرارداد پاس کروانے میں کامیاب بھی ہو گئیں اوراس کے بعد اب یہ استعماری طاقتیں عالم اسلام میں برسراقتدار اپنی پٹھو حکومتوں کے ذریعے سے دینی مدرسوں کو بھی ان کے اصل کردار سے محروم کرنا چاہتی ہیں ۔ چنانچہ مغرب کی آلہ کار حکومتیں اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے آئے دن ان کے خلاف ژاژخائی کرتی رہتی ہیں اور کبھی فرقہ واریت سے انہیں مطعون کر کے ان مدارس میں مداخلت کے لیے پر تولنے لگتی ہیں ۔تا کہ انہیں ان کے اس تاریخی کردار سے محروم کر دیا جائے جو وہ صدیوں سے انجام دے رہے ہیں اور یہاں سے بھی اسلام کے داعی ومبلغ، مفسر ومحدث اورمفتی وفقیہ پیدا ہونے کی بجائے، وہی مخلوق پیداہو جو کالج اوریونیورسٹیوں میں پیدا ہو رہی ہے، جس نے معاشرے سے اس کا امن اورسکون