کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 20
نظامی کے نصاب کا ایک بڑا حصہ صرف و نحو اور منطق و فلسفہ پر مشتمل ہے۔ اور نصاب میں شامل صر ف و نحو اور منطق و فلسفہ کی زیادہ تر کتب شیعہ مصنّفین کی تالیف کردہ ہیں ،جنہیں ’سنی‘ بھی اہتمام سے پڑھتے ہیں ۔ شیعہ سنی نصاب میں اگر کچھ فرق ہو سکتا ہے تو وہ فقہ کی کتب میں ہے ،جبکہ فقہ اصل شریعت کی بجائے اس کی تشریح و تعبیر ہوتی ہے ۔ تعبیر قانون (Interpretation) تو کبھی عدالتوں میں بھی ایک نہیں ہوتی اس لئے وہ کبھی تناؤ اور کھچاؤ کا باعث نہیں بن سکتی۔ آپ دیکھئے ! فقہ کا اختلاف تو اہل حدیث اور احناف کے درمیان بھی ہے، اگر فقہ جھگڑوں کا باعث ہوتی تو پھر شیعہ سنی جیسا تناوٴ ان کے درمیان بھی ہوتا ۔اللہ نظر بد سے بچا کر رکھے۔ آمین ! اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس وقت جو شیعہ سنی کشمکش برپا ہے، اس کا سبب نہ دینی مدارس ہیں اور نہ ان کا نصاب۔نصاب کو مدوّن ہوئے چار سو سال ہوچکے، اگر نصاب کی بنا پر فرقہ وارانہ تصادم فروغ پاتا تو برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ کبھی اس کے متعلق خاموش نہ رہتی اور یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں ، شیعہ سنی ہمیشہ نہایت امن و امان کے ماحول میں رہے ہیں ۔ اب بھی شیعہ سنی بعض افراد کے درمیان تصادم کا اصل محرک ماضی قریب کی خارجی سیاست یا بین الاقوامی مداخلت ہے جو گذشتہ بیس پچیس سال کے دوران پروان چڑھی ہے۔ بعض نوخیز تنظیموں کا جذباتی رویہ اسی خارجی سیاست اور بین الاقوامی کشمکش کا نتیجہ ہے جن کی ہم تائید نہیں کرتے ۔اس لئے حکومت اگر پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مخلص ہے تواسے اس کے حقیقی اسباب کا دیانت داری سے جائزہ لینا چاہئے۔ فرقہ وارانہ تشدد کا حقیقی سبب نہ تو دینی مدارس کا نصاب ہے اور نہ ہی دینی مدارس اس شیطانی کام میں ملوث ہیں !! ۲۷/ دسمبرکو جنرل پرویز مشرف کا علما کے ساتھ جو اجلاس ہوا، میں نے اس میں کہا تھا کہ جنرل صاحب! آپ جو اس وقت ہمارے اختلافات کی بات کرتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اختلاف صرف مسجد کی حد تک محدود ہے لیکن اس وقت مسجد کے بعض جزوی اختلافات کو ہوّا بنانے کی بجائے اصل چیلنج معاشرہ کی تعمیر و اصلاح ہے۔ مساجد تو ہندوستان میں بھی ہیں ، وہاں یہ فساد نہیں ہے ۔ پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا جس کا مقصد معاشرے کو اسلامی بنانا تھا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ قرآن،نبی اور اسلام کے اساسی عقائد سمیت معاشرتی مسائل میں کہیں بھی کسی مکتب ِفکر کا اختلاف نہیں ہے۔ جب ہم نفاذِ شریعت کی بات کرتے ہیں تو اس وقت اس سے مقصود کتاب و سنت ہی ہوتا ہے جو تمام مکاتب ِفکر کامشترکہ سرمایہ ہے اور فقہ تو اس کی انٹرپرٹیشنہے، ا س میں اگراختلاف ہے تو کچھ مضائقہ نہیں ، وہ تو صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین (خیرالقرون) میں بھی تھا ، البتہ اصل اسلامی دستور و آئین کتاب و سنت ہے ، جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے !!