کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 18
ہوتی رہیں ۔ اس وقت پاکستان کے دینی مدارس میں پڑھایا جانے والا نصابِ تعلیم کافی حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ خصوصاً اہل حدیث مدارس میں درسِ نظامی کی کتب بہت تھوڑی باقی رہگئی ہیں ۔ اس کی جگہ پر سعودی عرب، عراق، شام اور مصر کی مشہور یونیورسٹیوں کی متعدد کتب شامل نصاب کردی گئی ہیں ۔ ان اصلاحات کے باوجود چونکہ اس کی بنیاد وہی ملا نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کا مرتبہ نصاب ہے اس لئے کہنے کو آپ اسے ’درسِ نظامی‘ کہہ سکتے ہیں ،جس طرح ہمارے کالجز ،یونیورسٹیوں کا نصاب خواہ آپ اس میں کتنی بھی پیوند کاری کرلیں لیکن چونکہ اس کی بنیاد وہی لارڈ میکالے کا تعلیمی سسٹم ہے، اس لئے اسے لارڈ میکالے کا نظام تعلیم ہی کہا جائے گا۔ اس لئے میں کہوں گا کہ اگر ہم تعلیم میں وحدت پیدا کرنا اور مسٹر اور ملا کی تفریق ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر لارڈ میکالے کے غلامانہ تعلیمی نظام کو بنیاد بنانے کی بجائے دو قومی نظریہ کو بنیادبنانا ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغرب کی بجائے عرب ممالک، اور دیگر اسلامی ممالک سے مربوط ہوں تاکہ اسلامی ثقافت کا رشتہ مستحکم ہو سکے ۔اس سلسلہ میں مشرق ِبعید (Far East) اور اسلامی مغرب (مراکش وغیرہ) سے بھی اپنے روابط بڑھانے ہوں گے ،جن سے تعلیمی سلسلہ میں ہم بالکل کٹے ہوئے ہیں ۔میں نے ذاتی طور اسلامی مغرب سے اپنا رابطہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے ، چنانچہ میں عرصہ چار سال سے ان لیکچرز میں شرکت کررہا ہوں جو مراکش میں دروس حسنیہ کے نام سے بڑے اہتما م سے منعقد ہوتے ہیں ۔ ۔ ہماری شدید ملی ضرورت ہے کہ ہم عالمی طورپر اسلامی دنیا سے مربوط ہوں ۔ لادین مغرب یا سیکولر دنیا کی بجائے عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک سے علمی وتہذیبی رابطہ جوڑنے کیلئے ہماری حکومت کوبالخصوص توجہ دینا چاہئے۔ علم کبھی مخصوص علاقہ کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ مشرق ومغرب کی جہتوں سے بالاتر ہوتا ہے ۔اس طرح چونکہ تہذیب وتمدن علم وتحقیق کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں ،اس لئے اسلام کے عالم گیر ہونے کا یہ ناگزیر تقاضا ہے کہ ہمارا کلچر بھی بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو۔ اس وقت ہمارا کلچر اسلام ہے ، ہم ملت ِاسلامیہ کا حصہ ہیں ۔ اسی تصور سے درسِ نظامی وسط ِایشیا سے افغانستان اور ایران کے رستے ہم تک پہنچاتھا اور اس نے ثقافتی طور پر نہ سہی جذبات کی حد تک ہمیں اسلام سے جوڑے رکھا ۔جبکہ اب اتفاق سے ہم وسط ِایشیا سے بالکل کٹ گئے ہیں ، خصوصاً سانحہ افغانستان کے بعد۔ لہٰذا اب ہم مجبور ہیں کہ اپنے آپ کوپھر سے اسلامی دنیاسے مربوط کریں ، خصوصاً اس تعلیم کے حوالہ سے جو تہذیب و ثقافت کے اندر بنیادی کردار ادارکرتی ہے۔ باقی جہاں تک سائنس اور ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، وہ آپ خواہ یورپ سے لیں یا امریکہ جاپان اور چین سے لیں ، اسلام الحکمة ضالة الموٴمن (حکمت موٴمن کا گم گشتہ متاع ہے ) کے اُصول کے تحت اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اسلام سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیروں سے استفادہ اور