کتاب: محدث لاہور 257 - صفحہ 16
سوال : مدارس حکومت کی مداخلت سے اتنے خائف کیوں ہیں ؟ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی تو حکومتیں دینی مدارس وجامعات کو کنٹرول کیے ہوئے ہیں ۔ مولانا مدنی : آپ کی توجہ غالبا ً سعودی عرب وغیرہ کی طرف ہے حالانکہ وہاں کی صورت حال یکسر مختلف ہے ۔آپ دیکھتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں سرکاری یونیورسٹیاں کام کررہی ہیں یا سعودی عرب جو نظامِ تعلیم میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے، کی سب دینی اور دنیاوی جامعات حکومت کے تابع ہیں اور اس پر کبھی کسی نے احتجاج نہیں کیا ،لیکن فرق یہ ہے کہ ان کے نظامِ تعلیم کا بنیادی ڈھا نچہ دینی اور ذریعہ تعلیم عربی ہے ،جو مسلمانوں کی دینی زبان ہے، لیکن ہمارے نظام ِتعلیم کا بنیادی ڈھانچہ لارڈ میکالے کا غلامانہ نظام ہے جس میں انگلش زبان کوکلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ان ممالک سے درآمد ہر چیز کو ’ولایتی ‘کہہ کر ’دیسی‘ کی تحقیر کرتے ہیں ، حالانکہ وہ اب ہمارے ’والی‘ نہیں ہیں ، ہم آزاد ہیں ۔ولایتی کا معنی ہوتاہے ہماری ولایت یعنی حکمرانوں کی چیز ۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے ہاں مروج عصری (لارڈ میکالے والے ) نظام ِتعلیم کی اساس تبدیل کی جاتی، اُلٹا دینی مدارس کے نصاب کے خلاف واویلا کیا جارہا ہے۔ اب اگر حکومت اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی کی طرز پر یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لاتی ہے تو اس پر ہم نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سارا کام ہم اپنے وسائل سے کریں تو پھر کیا حق ہے حکومت کو مداخلت کرنے کا؟ اگر حکومت آڈٹ کرنا چاہتی ہے تو پھر قرارِ واقعی وسائل مہیا کرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، لیکن یہ واضح رہے کہ تعاون کے بہانے مدارس کو اپنے کنٹرول میں لانے اور ان کی حریت ِفکر پر قدغن لگانے سے احتراز کیا جائے اور دینی مدارس کے نظام ونصاب کی اصلاح کا کام جید علما اور ماہرین تعلیم کو آزادانہ سپر د کردیا جائے،یعنی نصاب کی اصلاح وترتیب علما کریں اور جدید ماہرین ِتعلیم ان کی مدد کریں ۔ جہاں تک گرانٹ کو قبول کرنے کا معاملہ ہے توجو مطمئن ہوجائیں گے کہ حکومت کے مقاصد نیک ہیں ، وہ قبول کریں گے اور جو مطمئن نہیں ہوں گے، وہ گرانٹ نہیں لیں گے۔ سوال: یہاں آڈٹ سے آپ کی مراد وہ رقم ہے جو آپ اپنی محنت اور کوشش سے عوام الناس /اہل خیر سے حاصل کرتے ہیں ؟ مولانا مدنی: جی ہاں ، جسے آپ ’جھونگا‘ کہہ سکتے ہیں ، جو معاشرہ مدارس کو یتیم سمجھ کر دیتا ہے، حکومت اس کا تو آڈٹ چاہتی ہے لیکن وہ بڑے بڑے مگرمچھ جنہوں نے برسرعام قومی دولت کو لوٹا اور قوم کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا،ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں اور جنہیں یتیم سمجھ کر کچھ دیا جاتاہے، ان کے خلاف پروپیگنڈہ ، لغو اعتراضات اور بے جا سختی ،آخر کیوں ؟ کیا یہ صریح ظلم اور ناانصافی نہیں ہے؟پھر آپ خود دیکھئے کہ ملک میں جو دیگر پرائیویٹ ادارے کام کررہے ہیں مثلاً مشنری ادارے اور مغرب و