کتاب: محدث شمارہ 256 - صفحہ 26
(Jono)کہتے ہیں ۔ یہ زہرہ سیارہ کی دیوی تھی اور اسی نسبت سے جمعہ کے دن کو (Friday) کہتے ہیں ۔ زہرہ کا مالک دیوتا کی بجائے دیوی تجویز کرنے کی شاید یہ وجہ ہوکہ اس کو ایک خوبصورت سیارہ تصور کیا جاتا ہے۔ سیاروں کے ہمہ گیر اثرات ہند کے لوگ ان معتقدات میں اہل مغرب سے بھی کچھ آگے بڑھ گئے تھے۔ انہوں نے دنوں کے نام سیاروں کی نسبت سے تجویز کرنے کے علاوہ ان میں سعد و نحس کی تمیز بھی قائم کردی۔ مثلاً زحل کو ہندی میں سینچر کہتے ہیں ، اسی نسبت سے ہفتہ کا نام سنیچروار تجویز ہوا۔ اس سیارہ کو منحوس خیا ل کیا جاتا ہے۔ پھر ہر انسان کے نام کی کسی مخصوص سیارہ سے نسبت قائم کی گئی۔ گویا اس انسان پر اس منسوب سیارہ کے اثرات دوسرے سیاروں کی نسبت زیادہ تسلیم کئے گئے۔ اس طرح زہرہ کو ہندی میں شکر کہتے ہیں ، لہٰذا جمعہ کا نام شکر وار تجویز ہوا۔مشتری کو برہسپت کہتے ہیں ۔ جمعرات کا دن اس سیارہ کا تسلیم کیا گیا اور اسے برہسپت وار یا ویر وار کہتے تھے۔ یہ سیارہ سعد ِاکبر تسلیم کیا جاتاہے۔ گویا جس شخص کی اس سیارہ سے نسبت ہو، وہ بہت نیک بخت ہوگا۔ عطارد کو ہندی میں بدھ اور اس سے منسوب دن کو بدھوار کہتے ہیں اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا انسان علم و دانش سے بہرہ ور ہوگا۔ مریخ کوہندی میں منگل کہتے ہیں ۔اور منگل کا دن اسی سے منسوب ہے۔ مریخ کو منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ سوموار کا دن چاند سے منسوب ہے اور اس سے نسبت رکھنے والے شخص میں نرمی اور جمال پایا جاتا ہے۔ اتوار سورج کا دن ہے اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا شخص عموماً بہادر اور پرشکو ہ ہوتا ہے۔ مزید ستم یہ ہوا کہ انفرادی اثرات کے علاوہ ان سیاروں کے زمین اور اہل زمین پر مجموعی اثرات بھی معتقدات میں شامل ہوگئے۔ مثلاً دولت، زراعت، معدنیات اور کپڑے کا مالک سورج کو تسلیم کیا گیا، حالانکہ ان کی الگ الگ دیویاں بھی موجود ہیں ۔( مشتری کو یعنی برہسپت کو سیلاب اور بادلوں کا مالک۔ مریخ یعنی منگل کو پھلوں کے رسوں کا مالک، زحل یا سینچر کو غذا کا مالک اور عطارد کوتمام پھلدار درختوں اور پودوں کا مالک سمجھا جانے لگا۔ ان معتقدات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم ہیئت یا علم نجوم سے زیادہ ایک دوسرا علم یعنی علم جوتش یا ’علم اثراتِ نجوم‘ فروغ پاگیا۔ بادشاہ اور حکمران لوگ کسی بھی مہم یا سفر پر روانہ ہونے سے پیشتر نجومیوں سے زائچے تیار کروا کے یہ معلوم کرتے تھے کہ ان کا یہ سفر یا مہم کن حالات پر منتج ہوگی۔ [1] مثلاً دولت کی الگ دیوی ہے جسے ’لکشمی‘ کہتے ہیں ۔ پھر دیوتاؤں کی بیٹیاں ، بیٹے اور بیویاں بھی تجویز ہوئیں ۔ اسی طرح ہند، مصر اور یونان میں ان چھوٹے خداؤں یعنی دیوتاؤں (Gods) اور دیویوں (Godesses) کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے۔