کتاب: محدث شمارہ 240 - صفحہ 80
8۔پاکستان کے سیکولر ریاست بننے سے جہاد کشمیر کو سخت نقصان پہنچے گا۔پاکستان کا سیکولر گردش خیال طبقہ جہاد کو دہشت گردی تصورکرتاہے۔سیکولر د انشور پاکستان میں جہادی کلچر کے فروغ پانے کا واویلا کررہے ہیں ۔اور اسے سول سوسائٹی کے لیے شدید خطرہ قرار دے رہے ہیں ۔راقم الحروف نے کئی سیکولر افراد کو مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے لیے سرطان کہتے ہوئے سنا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو بھول جائے۔پاکستان کا سیکولر طبقہ بھارت سے خاص الفت رکھتا ہے۔وہ پاکستان اور بھار ت کے درمیان جغرافیائی سرحدوں کی موجودگی پر سخت پریشان ہے۔وہ بھارت میں آزادانہ آمدورفت اور میل ملاپ کا حامی ہے۔بھارت میں جا کر پاکستان کے خلاف زبان درازیاں کرنا ان کا معمول ہے۔وہ بھارت اور پاکستان کے کلچر میں کوئی فرق تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہے۔ 9۔پاکستان کا سیکولر طبقہ صوبوں کے حقوق کے نام پر وفاق پاکستان کے خلاف سازش میں مصروف ہے۔یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ الطاف حسین ،سرائیکی صوبہ تحریک کے سربراہ تاج لنگا،پختونخواہ کا مطالبہ کرنے والے بلوچستان کے محمود اچکزئی،عطاءاللہ مینگل وغیرہ سب سیکولر ہیں ۔پاکستان کو اگر سیکولر ریاست بنادیاجائے تو علاقائی ،لسانی اور نسلی تعصبات کو مزید ہوا ملے گی۔پاکستان دشمنوں کو اپنی سازشوں پر عمل درآمد کرانے میں سازگار فضا میسر آئے گی۔ 10۔سیکولرازم کے نفاذ کے بعد پاکستان میں سب سے اہم تبدیلی یہ آئے گی کہ پاکستان اپنے قیام کے جواز سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔پاکستان کا صحیح تشخص ،اس کی اسلام سے وابستگی ہے۔سیکولر ازم کا ہدف پاکستان جیسے اسلامی معاشرے کو اسلامی تشخص سے محروم کرکے اس میں مغربی تہذیب کی ملحدانہ اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ہمارے سیکولر دانشوروں کو پاکستان کے نام کے ساتھ"اسلامی جمہوریہ"کے الفاظ تک پسند نہیں ہیں ۔حال ہی میں تحریک استقلال کے رہنما اصغر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلامی کا لفظ ختم کردیا جائے۔یہ محض اصغر خان کی سوچ نہیں ہے۔پاکستان کا ہر قاتل ذکر دانشور جو سیکولرازم پر یقین رکھتاہے یہی فکر رکھتا ہے۔پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کا سوال پاکستان کے مستقبل اور بقا کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔یہ ایک عظیم چیلنج ہے جو اہل پاکستان کو فکری ارتداد کا شکار پاکستانیوں کی طرف سے دیا جارہاہے۔بیرونی اعتبار سے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ تو پاکستان کی مسلح افواج نے لے ر کھاہے۔مگر اس مملکت خدادادکی نظریاتی سرحدوں کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟یہ ہم سب کے سوچنے کی بات ہے۔اگر ہم ایک زندہ قوم کی طرح سے اپنا و جودبرقرار رکھنا چاہتے ہیں ،تو اس اہم قومی مسئلہ سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔سیکولرازم ایک عظیم فتنہ ہے جس کی بیخ کنی انفرادی جدوجہد کی بجائے اجتماعی تحریک کے ذریعہ ہی ممکن ہے!!