کتاب: محدث شمارہ 20 - صفحہ 48
یہ کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سرورِ کائنات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مجموعہ ہے۔ اس حیثیت سے تو یہ تبصرے سے بے نیاز ہے۔ ناشر نے صرف احادیث کا انگریزی اور اردو ترجمہ کرا کے آمنے سامنے دونوں زبانوں کے ٹائپ میں شائع کیا ہے۔ کاغذ اور طباعت کے لحاظ سے یہ کتابچہ نہایت خوبورت اور دیدہ زیب ہے۔ دونوں ترجموں کا زبان و بیان بھی اچھا ہے۔ پھر احادیث کے لئے اصل کتابوں کا حوالہ دے کر ارشاداتِ نبوی کے بے حوالہ ذکر سے اجتناب قابلِ تحسین امر ہے۔ ہمارے ہاں عموماً مصنفین اور محققین، احادیث کے بارے میں اس طریق سے بے اعتنائی برتتے ہیں جو ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ اگر کوئی بات بے تحقیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر دی جائے تو خطرہ ہوتا ہے کہ آپ کی طرف ایسی بات نسبت کر دی گئی ہو جو آپ نے نہ کہی ہو اور اس پر سخت وعید آئی ہے۔ کیونکہ سامع اور قاری، حدیث کا صحت و ضعف پرکھے بغیر اس پر عمل پیرا ہو سکتا ہے۔ اسی لئے علماء وثقہ لوگ احادیث کے لئے کتبِ اصول کا حوالہ ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ان پر ذمہ داری نہ رہے۔ اس لحاظ سے ساتھ ہی احادیث کا عربی متن دینا متبرک اور احتیاطی امر ہوتا ہے لیکن مرتبین نے اس کی پرواہ نہیں کی جو نامناسب ہے۔ .......٭٭٭٭٭...... نام کتاب : آداب شہریت ضخامت : ۱۲۸ صفحات قیمت : درج نہیں ناشر : محکمہ اوقاف پنجاب لاہور اس کتاب کی ترتیب جدید مولانا محمد میاں صاحب صدیقی کے ہاتھوں ہوئی۔ مولانا موصوف مشہور عالم دین محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کے صاحبزادے ہیں اور اس وقت علماء اکیڈمی محکمہ اوقاف پنجاب لاہور میں ریسرچ آفیسر ہیں ۔ اس کتابچہ میں علم سیاسیات کی شہریت و ریاست سے قطع نظر اسلام نے انفرادی اور اجتماعی جامع حیثیت سے جس قسم کے اخلاق و کردار کی تعلیم دی ہے اور ایک اعلیٰ انسان بننے کے لئے جن مسلمہ ضوابط و آداب کی تلقین کی ہے انہی کو عوام کے لئے آسان اور سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کتاب چار حصوں آدابِ عامہ، محاسنِ اخلاق، رذائلِ اخلاق اور حقوق و فرائض پر مشتمل ہے۔ مرتب موصوف تحریر و بیان میں منجھے ہوئے ذوق کے مالک ہیں ۔ لیکن اگر بعض الفاظ مثلاً ’’قوانین ٹریفک‘‘ کی بجائے ’’ٹریفک کے قوانین‘‘ اسی طرح ’’پاکی کے آداب‘‘ کی بجائے پاکیزگی یا طہارت استعمال ہوتے تو زیادہ عام فہم اور موزوں تھے۔ اسی طرح قرآن کریم کی آیات کے صرف لظی ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے تاہم کتاب ان باریک سی باتوں کے علاوہ ہر اعتبار سے خوب ہے۔ خصوصاً وام کے اخلاق و کردار کو سنوارنے کے لئے ان موضوعات پر مشتمل لٹریچر کی اشد ضرورت ہے محکمہ اوقاف کی طرف سے ایسی کتابوں کی اشاعت خوش کن امر ہے۔