کتاب: محدث شمارہ 20 - صفحہ 29
ہے جو ہمارے روز مرہّ کے معمولات میں داخل ہے مگر روزے دار کے لئے یہ بھی باعثِ فضیلت بن جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: تسحروا فان فی السحور بركة تم سحری ضرور کھایا کرو کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ ایک جگہ فرمایا: استعینوا بطعام السحر علی صیام النھار کہ دن کا روزہ رکھنے کے لئے سحری کے کھانے سے مد لیا کرو۔ یہ بات بھی سحری کھانے کی ترغیب کے لئے کہی گئی۔ ایک جگہ فرمایا: علیکم بغداء السحور فانه ھو الغداء المبارک کہ سحری تم پر لازم ہے کیونکہ وہ مبارک کھانا ہے۔ ایک جگہ فرمایا: السحور کله بركة فلا تدعوہ ولو ان یجرع احدکم جرعة من ماء فان اللہ عزوجل وملائکته یصلون علی المتسحرین سحری کا کھانا پینا سب برکت ہے لہٰذا تم اسے ہرگز نہ چھوڑو۔ خواہ انسان پانی کا ایک گھونٹ پی کر ہی سحری کیوں نہ کرے (یعنی اگر کھانے کی حاجت نہیں تو پھر بھی کم از کم پانی کا ایک گھونٹ ضرور پی لینا چاہئے) بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے مقرب فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں ۔ ذرا سوچئے! کھانا ہم کھاتے ہیں ۔ رب العزت کی انواع و اقسام کی نعمتوں پر ہاتھ ہم صاف کرتے ہیں ۔ مگر لذتِ کام و دہن اور زبان کے چٹخارے کے ساتھ ساتھ اس کی رحمتوں اور برکتوں کے سزاوار بھی گردانے جاتے ہیں ۔ الحمد للہ! دل سے ایک صدا اُٹھتی ہے۔ مولا یہ تیرا اتنا بڑا کرم ہے، یہ بے پایاں انعام، یہ تیری رحمتوں کے خزینے، یہ تیری برکتوں کے خزینے، یہ تیری برکتوں کی موسلا دھار برسنے والی بارشیں ۔ ہم عاجز بندوں پر، ہم گنہگار اور پاپی انسانوں پر! مولا تو کتنا عظیم ہے! مولا تو کتنا کریم ہے! مولا تو کیسا خالق و مالک اور آقا ہے! ہم نے دیکھا ہے کہ اس دنیا میں انسان دولت کے چند سکوں کی شہ پا کر انسان کو انسان نہیں سمجھتے! مگر تو قادرِ مطلق ہو کر بھی! علٰی کل شیء قدیر ہو کر بھی، جبار و قہار ہو کر بھی۔ اپنے بندوں پر درود بھیجتا ہے۔ تو ہی نہیں تیری نورانی