کتاب: محدث شمارہ 20 - صفحہ 27
کے لئے رمضان میں اس رات سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں ۔ روزہ کیس عبادت ہے کہ یہ خود بھی فضیلت ہے اور اس کی افطاری بھی فضیلت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: من فطر فیه صائما كان مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل اجره غيران ينقص من اجره شيئا قالوا يا رسول الله ليس كلنا يجد ما يفطر الصائم فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يعطي الله ھذا الثواب من فطر صائما علٰي تمرة او شربة ماء او مذقة لبن کہ جس نے کسی روزے دار کی افطاری کا انتظام کیا تو یہ افطاری اس کے گناہوں کے لئے بخشش اور اسے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ ہو گی اور جس کی افطاری کروائی گئی، اور جس نے افطاری کروائی ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہو گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے گزارش کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کو تو کسی کی افطاری کا اہتمام کرنے کی توفیق نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خدا یہ ثواب اس شخس کو بھی برابر عطا کرتا ہے جو ایک کھجور، پانی کے ایک گھونٹ یا دودھ کی ایک چُلّی سے کسی کا روزہ افطار کروا دے۔ ایک جگہ فرمایا: من اسقی صائما سقارہ اللہ من حوضی شربة لا یظماء حتی یدخل الجنة کہ جو شخص کسی روزے دار کو جی بھر کر پانی پلا دے (یا پُرتکلف افطاری کا اہتمام کرے) تو خدا تعالیٰ اس کو میرے حوض کوثر سے اس طرح سیراب کریں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس محسوس نہ ہو گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذا افطر احدکم فليفطر علي تمر فانه بركة فمن لم يجد فليفطر علي ماء فانه طھور کہ جب روزہ افطار کرنا چاہو تو کھجور سے افطار کرو کیونکہ یہ باعثِ برکت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے چھوڑ لو، یہ باعثِ طہارت ہے۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ کے پاس روزہ افطار کیا اور فرمایا: افطر عندكم الصائمون واكل طعامكم الابرار وصلت عليكم الملٰئكة