کتاب: محدث شمارہ 15 - صفحہ 16
و رشد کے یہ لوگ وارث ہوئے، بھی تلاش علم میں حکم ربانی سے دور دراز کے سفر کرتے رہے۔ گویا یہ رحلۂ علم اسوۂ انبیاء بھی ہے۔ اس سے اس لفظ کی شان اور اس سفر کا مقام کتنا بلند ہو جاتا ہے اور ہمارے لئے دستور العمل کا ایک زریں باب کھولتا ہے۔ مگر افسوس! اس غربتِ اسلام کے زمانہ میں جہاں اس لفظ کے اندر کوئی چاشنی نہیں رہی وہاں سفر علم کے لئے مسلمانوں میں کوئی حرکت نہیں رہی جس کا نتیجہ دن بدن مسلمانوں کی پستی و ادبار ہے۔ اسی کے نتیجہ میں آج مسلمان ہر جگہ اپنی سیادت و قیادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔ رحلہ انبیائے کرام: 1. رحلہ انبیاء کے سلسلہ میں سب سے پہلے میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذِکر کرتا ہوں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ایک چٹان پر کھڑا کر کے زمین و آسمان کی بادشاہی کی سیر کرائی جو گویا ایک خاص طویل ذہنی سفر ہے جس کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے: وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرَاھِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ من الْمُوْقِنِيْنَ (الانعام: ۷۶ تا ۷۹) ہم ابراہیم کو زمين و آسمانوں کی بادشاہی دکھاتے رہے تاکہ وہ یقین کرنے والوں سے ہو جائے۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر اور احکام حج سکھانے کے لئے ابراہیم اور ان کی ام الولد حضرت ہاجرہ کو بمعہ لکت جگر اسماعیل کے دور دراز کا سفر کرایا۔ اس طرح سے اقامتِ دین کے لئے ہجرت ہوئی پھر وہاں جب ابراہیم اور حضرت اسماعیل اللہ کے گھر کی تعمیر مکمل کر چکے تو دونوں نے اللہ سے مناسکِ حج سیکھنے کی درخواست کی۔ جس کو قرآن مجید وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا (اے اللہ ہمیں احکام حج سکھا) کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ انہی کی عملی تعلیم کے لئے پھر انہیں کم از کم سترہ اٹھارہ میل کا سفر کرنا پڑا۔ کیونکہ حج کے لئے مقاماتِ حج کے درمیان اتنا فاصلہ طے کرنا ہی پڑتا ہے۔ 2. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پہلے