کتاب: محدث شمارہ 10 - صفحہ 29
9.مہدی علیہ السلام کا ظہور قریش کے کسی قبیلے میں سے ہو گا۔ (کنز) 10.اولادِ علی رضی اللہ عنہ اور اولادِ عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے آپ کا تعلق ہو گا۔ (حجج) 11.اتنا ثابت ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو گا، خدا جس کو چاہے مہدی بنا دے۔ 12.محققین کا اصلی مذہب یہ ہے کہ ایک شخص پیدا ہو گا جو مسیح علیہ السلام اور مہدی دونوں کہلائے گا کیونکہ اوّلاً ابنِ ماجہ اور حاکم نے بروایت انس رضی اللہ عنہ ذکر کیا ہے کہ: «لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا، وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ " وثانیاً کما أرسلنا إلی فرعون رسولا» میں اشارہ کیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثیل تھے اور آیت لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ میں اشارہ ہے کہ آخر الخلفاء سلسلہ موسویہ میں حضرت مسیح علیہ السلام تھے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ سلسلۂ محمدیہ مماثلہ بسلسلہ الموسویہ میں بھی آخری خلیفہ محمدی وہ ایسا مہدی ہو گا جو مسیح بھی کہلائے گااور اسی بنا پر اس خلیفہ کو ابن مریم کہا گیا ہے۔ ثالثاً نشانات مسیح تقریباً ایک ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح صرف ایک شخص کے ہی صفاتی نام ہیں ، جیسے نزول امطار، کثرت زروع، ترکِ جہاد، وجود عدل، کسر صلیب، اہلکا ملل، ظہور من المشرق، دخول في بیت المقدس وبیت اللہ شریف۔ رابعاً برایت احمدیہ وارد ہوا ہے: یوشک من عاش منکم أن یلقی عیسٰی ابن مریم إماما مھدیا و حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر وتضع الحرب أوزارھا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ مسیح ہی امام، حکم اور مہدی کہلائے گا۔ بہائی: 1.اختلاف پیدا ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ تمام وایات ہی موضوع ہیں ، ورنہ جس قدر اختلافی مسائل ہیں ، ان کی بنیاد روایات موضوعہ پر ماننی پڑے گی۔ 2.مسئلہ مہدی کو بنظر تحقیر دیکھنا خبث باطن یا جہالتِ اسلامی ظاہر کرتا ہے، ورنہ اگر واقعی قابلِ نفرت ہوتا تو اصحاب الجر والعدیل یا ائمہّ کبار اور امامانِ اسلام اس سے نفرت کا اظہار کرتے۔ 3.تعدد مہدی کا قول غلط ہے۔ کیونکہ جب محدثین نے اُصولِ حدیث کی ُرو سے احادیث صحیحہ الگ