کتاب: محدث شمارہ 10 - صفحہ 26
نشر و اشاعت کے کام میں لائی جاتی ہیں ۔ مثلاً اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن مذاکرات وغیرہ کے ذریعہ سے دینی اقدار اور اسلامی طرزِ حیات کی تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں یہ ذرائع عوامی رجحانات کو بدلنے اور نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ معاشرے کے اندر غلط رجحانات کی ترویج میں ان اداروں کا بڑا حصہ ہے۔
(ب) یہ ادارہ معیاری معاشرت کے لئے عمدہ نمونہ اور مثال پیش کرے جس کی نہج پر پورے معاشرے کو ڈھالا جا سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اصولوں کو بیان کیا تھا، ان اصولوں پر مبنی ایک سوسائٹی مدینہ طیبہ میں تشکیل دی تھی اس معاشرہ کا ہر فرد ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ لہٰذا اصلاح معاشرہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ نمونے کے چند افراد پر مشتمل ایک ایسی وحدت قائم ہونی چاہئے جس کو سامنے رکھ کر پورے معاشرے کو استوار کیا جا سکے۔
۵۔ معاشرے میں مسجد کی دینی اور سماجی حیثیت کو اجاگر کیا جائے اور اصلاح معاشرہ کے لئے مسجد کو مرکزی حیثیت دی جائے کیونکہ نظمِ اجتماعی کے لئے ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک مسلم سوسائٹی مسجد سے اپنا تعلق مضبوط نہیں کرتی اور مسجدیں پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیتوں کی حامل نہیں بن جاتیں ، اس وقت تک اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۶۔ تعلیمی ادارے معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں ۔ معاشرے کے اجتماعی شعور اور انفرادی تشخص کے ارتقاء کا دارومدار تعلیمی اداروں پر ہے جہاں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس لئے ایسے اساتذہ کا انتظام کیا جائے جو طالب علموں میں اسلامی اقدار کو راسخ کر دیں ۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں نصابات کی بھی جانچ پڑتال کی جائے اور ایسی تمام چیزیں جو روحِ دین کے منافی ہوں ، ان کو پڑھاتے وقت تنقیدی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ طالب علم ان کی حقیقت سے واقف ہو جائیں ، نیز ان داروں میں بنیادی دینی تعلیمات کا انتظام کیا جائے تاکہ طلباء اسلام کی اصلیت اور اس کی روح سے مکمل واقفیت حاصل کر سکیں ۔
۷۔ دولت اور وسائلِ دولت پر تصرف اس طرح ہو کہ معاشرے میں معاشی نا انصافی،