کتاب: محدث شمارہ 10 - صفحہ 25
۳۔ حکومت کو ان صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جو خیر کو قائم کریں اور شر کو روک سکیں ۔ ’’النَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ‘‘ ایک پرانا مقولہ ہے اور غالباً حدیث نبوی سے ہی اخذ کیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوْأَمَانِ لَا یَصْلُحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلَّا بِصَاحِبِہ فَالْاِسْلَامُ اُسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَّمَا لَا اُسَّ لَہُ ھَادِمٌ وَّمَا لَا حَارِسَ لَہ ضَائِعٌ (کنز العمال) اسلام اور حکومت و ریاست، دو جڑواں بھائی ہیں ۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔ ایک اور حدیث ہے: اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالْقُرْآنِ (تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ ج ۳ ص ۵۹) ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں ہو سکتا۔‘‘ حدیث میں قوم کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ داری اس کے علماء اور امراء پر رکھی گئی ہے۔ کیونکہ زمامِ کار انہی لوگوں کے ہاتھ ہوتی ہے۔ اگر فرمانروا خدا پرست اور صالح ہوں تو زندگی کا سارا نظام خیر و صلاح پر چلے گا۔ اور حکومتِ وقت ‘‘ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کی سفارشات پر غور کرے گی۔ ۴۔ معاشرے کا اجتماعی شعور بیدار کیا جائے کہ کوئی شخص بھی بگاڑ کی طرف مائل نہ ہو۔ اس کے شعور کی تعمیر و ترقی کے لئے ’’ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ مندرجہ ذیل طریق اختیار کر سکتا ہے۔ (الف) تعلیم و تبلیغ کے زریعے وہ تمام صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں ۔ جو دورِ حاضر میں